Urdu book · فکر اسلامی

مسائل قدیم ، دلائل جدید

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

کا کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ مولانا طیب صاحب نے لکھا ہے کہ ”اسلامی فکر کی تشکیل جدید کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے کہ مسائل ہمارے قدیم ہوں اور دلائل جدید ہوں، تاکہ یہ نئی تشکیل قائم کر کے ہم خلافت الہی اور نیابت نبوی کا حق ادا کر سکیں ۔ فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا یہ پہلا قدیم یا مرکزی نقطہ ہے جس سے ہمیں کام کا آغاز کرنا ہے اور اسی نقطہ پر اپنی تمام توانائیاں صرف کرنی ہیں ۔“ (فکر اسلامی کی تشکیل جدید، صفحہ 83) ”مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں “ یہ بات اگر قرآن کے بارے میں کہی جائے تو وہ صد فی صد درست ہے۔ مثال کے طور پر قرآن (4:34) میں یہ حکم آیا ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ)۔ قدیم علما نے اس تقسیم کی روایتی توجیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورت پر مرد کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ وہ عقل اور تدبیر میں عورت پر بڑھا ہوا ہے (وَالتَّفْضِيلُ لِلرَّجُلِ لِكَمَالِ الْعَقْلِ وَحُسْنِ التَّدْبِیرِ) صفوۃ التفاسیر ، جلد 1 ، صفحہ 274۔ موجودہ زمانہ میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اس توجیہ کے حق میں نئے سائنسی دلائل پیش کیے جا سکیں ۔ جدید بیالوجی (علم الحیاۃ) کے مطالعہ سے ثابت ہوا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان پیدائشی طور پر ہی فرق پایا جاتا ہے ۔ عورت کے جسم کے ایک ایک سیل (cell) سے لے کر اس کے دماغ کی بناوٹ تک سب کی سب مرد سے مختلف ہوتی ہے۔ اس بنا پر مرد کے مقابلہ میں عورت جذباتی ، منفعل مزاج اور ضعیف ہوتی ہے۔ زندگی کے چیلنجوں کے سامنا کرنا اس کے لیے سخت مشکل ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری ہے کہ گھر اور سماج کے نظام میں مرد کو عورت کے اوپر قوام کا درجہ دیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page