Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح جدید سائنس نے ہم کو یہ موقع دیا ہے کہ ہم ایک قدیم مسئلے کے حق میں جدید دلائل پیش کر سکیں اور اس کو از سر نو مدلل کر کے لوگوں کے سامنے لے آئیں ۔ مگر "مسائل قدیم ہوں اور دلائل جدید ہوں" کا نظریہ فقہ کے بارے میں کلی طور پر درست نہیں ہو سکتا ۔ کیوں کہ قرآن اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے ۔ جب کہ فقہ کی حیثیت اس کے مقابلہ میں وقتی اور زمانی ہے۔ مثال کے طور پر ہماری مدون فقہ پوری دنیا کو دو خطوں میں تقسیم کرتی ہے ــــ دارالاسلام اور دارالحرب ۔ دارالاسلام وہ ملک ہے جہاں اسلام کا قانون نافذ ہو۔ اور دارالحرب وہ ملک ہے جہاں اسلام کا قانون نافذ نہ ہو۔ اس فقہ کی روشنی میں ، مسلمان دارالحرب کے مقابلہ میں امکانی طور پر برسرِ جنگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قاری طیب صاحب کے مذکورہ اصول کے مطابق ، اس قدیم فقہی اصول کو جدید دلائل سے آراستہ کر کے د وبارہ مستحکم کیا جانا چاہیے ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ طرزِ فکر یقینی طور پر درست نہیں۔ آج اصل ضرورت یہ ہے کہ اس فقہی تقسیم پر نظر ثانی کی جائے ، نہ کہ اس کو از سر نو مدلل کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔ قدیم فقہ اور جدید حالات میں فرق کی بنا پر اس طرح کے بہت سے نئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر جامد تقلید کی بنا پر لوگ نہ تو انھیں سمجھ سکے اور نہ اس کے حل کی راہ نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ خلاف زمانہ تفکیر فقہ کی کتابوں میں "دارالحرب" کی جو تعریف کی گئی ہے، اس کو لفظی طور پر لیجیے تو موجودہ دنیا کے تمام ملک دارالحرب قرار پاتے ہیں ۔ اور جب کوئی ملک دارالحرب کی حیثیت اختیار کرلے تو خود اسی فقہ کے مطابق ، مسلمانوں پر دو میں سے کوئی ایک چیز لازم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page