Urdu book · فکر اسلامی

خلاف زمانہ تفکیر

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جاتی ہے۔ یا تو جنگ کرکے اس کو دار الاسلام بنائیں، یا وہاں سے ہجرت کرکے کسی دارالاسلام میں چلے جائیں۔ مگر آج حالت یہ ہے کہ مسلمانوں میں جنگ کرنے کی طاقت نہیں۔ اور جہاں تک دوسرے انتخاب (ہجرت) کا سوال ہے تو بقول مولانا شبلی نعمانی: جو ہجرت کرکے بھی جائیں تو شبلی اب کہاں جائیں کہ اب امن و امان شام و نجد و قیرواں کب تک اس طرح یہ قدیم فقہ ہم کو ایک بندگلی میں لے جاکر چھوڑ دیتی ہے۔ اور مولانا قاری طیب صاحب اور ان کے جیسے حکماء امت یہ کہہ رہے ہیں کہ اس قدیم اصول کو جدید دلائل سے مزین کرکے اس کو دنیا کے سامنے پیش کرو۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے انداز میں یہی کام کیا ہے۔ انھوں نے قدیم مسائل کو جدید دلائل کے لباس میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے فکر کو فقہی زبان میں غالباً اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ دارالحرب کے خلاف لڑکر اس کو دارالاسلام میں تبدیل کرو۔ آپ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے لٹریچر کا مطالعہ کریں تو اس کا خلاصہ آپ کو یہ ملے گا کہ مسلمان کا اصل مشن خدا کی زمین پر خدا کی حکومت قائم کرنا ہے۔ یہ کام اقتدار کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے تم اٹھو اور اہل اقتدار سے اقتدار کی کنجیاں چھین لو۔ جس طرح ٹرین کو اس کا انجن چلاتا ہے۔ اسی طرح زندگی کی گاڑی کو اہل اقتدار چلاتے ہیں۔ اگر تم زندگی کی گاڑی کو اسلامی رخ پر چلانا چاہتے ہو تو تمہیں اپنی طاقت کو منظم کرکے اقتدار کے انجن پر قبضہ کرنا چاہیے۔ مولانا مودودی اور ان کے جیسے انقلابی مفکرین کے خیالات سے متاثر ہوکر مسلم نوجوان آج کل دنیا میں جگہ جگہ گن کلچر چلا رہے ہیں تاکہ دارالحرب کو دارالاسلام میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page