اجتہادی کوتاہی کے نتائج
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
یورپ اور پھر جاپان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس معاملہ میں واضح تاریخی مثال قائم کردی ہے اور کوئی بھی صاحب نظر آدمی اس تاریخ کا مطالعہ کرکے اس معاملہ کو بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے۔ اجتہاد کے سلسلہ میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ کسی مخصوص صورت حال سے نمٹنے کے لیے اگر کوئی ایسی عملی تجویز پیش کی جائے جو ایک طرف مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو اور دوسری طرف اسلام کے روح و مزاج سے بھی ہم آہنگ یا غیر متصادم ہو تو اسے ایک مجتہدانہ رائے قرار دیا جائے گا۔ خواہ اس کو پیش کرنے والا کافر اور اسلام کا منکر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز ایسی رائے کو قبول کرنا اہل اسلام کے لیے درست بلکہ وقت کا عین مطلوب ہوگا۔ یہی بات شاطبی نے ان لفظوں میں لکھی ہے: ”وَقَدْ أَجَازَ النُّظَّارُ وُقُوعَ الاجْتِهَادِ فِي الشَّرِيعَةِ مِنَ الْكَافِرِ الْمُنْكِرِ لِوُجُودِ الصَّانِعِ وَالرِّسَالَةِ وَالشَّرِيعَةِ، إِذْ كَانَ الاجْتِهَادُ إِنَّمَا يَنْبَنِي عَلَى مُقَدِّمَاتٍ تُفْرَضُ صِحَّتُهَا، كَانَتْ كَذَلِكَ فِي نَفْسِ الأَمْرِ أَوْ لَا“(الموافقات، جلد 4، صفحہ 58)۔ اور کچھ اہل علم و نظر نے تو خالق کے وجود اور رسالت اور شریعت کا انکار کرنے والے ایک نان مسلم سے بھی شریعت میں اجتہاد کے وقوع کو جائز قرار دیا ہے۔ کیوں کہ اجتہاد تو ان اصولوں پر مبنی ہوتا ہے، جن کو درست مان لیا جاتا ہے، خواہ وہ بذات خود صحیح ہوں یا نہ ہوں۔ اسی لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر ہندوستان کے اکابر علما اور مسلم دنیا کے علما کی اکثریت نے خلافت تحریک کے زمانے میں تشدد کے مقابلہ عدم تشدد کی پالیسی کو عملاً اختیار کیا جو ایک غیر مسلم کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ یہ بات عین فطری ہے۔ کیوں کہ اجتہاد کا تعلق امور آخرت سے نہیں ہے بلکہ امور دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader