Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ہے۔ اور امور دنیا میں کسی بھی شخص سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ تقلید کے نقصانات اجتہاد کا بدل تقلید ہے۔ جہاں اجتہاد کا عمل بند ہوگا وہاں تقلید کا عمل جاری ہو جائے گا، اور تقلید انسانی صلاحیتوں کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان المناک صورت حال سے دوچار ہیں اس کی کوئی ایک وجہ بتانا ہو تو بلا شبہ وہ یہی ہوگی کہ اجتہاد کا دروازہ بند کر کے امت کو تقلید کے اندھیرے میں ڈال دیا گیا۔ اجتہاد کا عمل رکنے سے جو خرابیاں آتی ہیں ان میں سے ایک ہلاکت خیز خرابی یہ ہے کہ مسلمان خود اپنے دین کے نئے امکانات کو دریافت کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو جو دین دیا گیا ہے وہ ایک ابدی دین ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہے کہ وہ ہر آنے والے دور کی امکانات کو سموئے ہوئے ہے۔ ان مخفی امکانات کو مجتہدانہ بصیرت ہی کے ذریعہ دریافت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اجتہاد کو ممنوع ٹھہرا کر تقلید کو رائج کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس واحد دروازہ ہی کو بند کر دیا گیا جس کے ذریعہ مسلمان اپنے دین کے نئے نئے امکانات تک پہنچ سکتے تھے۔ قرآن میں بہت سی آیتیں استقبال کے صیغہ میں ہیں۔ مثال کے طور پر تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم (آئندہ) ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے نفسوں میں بھی ، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41:34)۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل آئے اور یہ خبر دی کہ آئندہ فتنے اٹھیں گے۔ آپ نے جبریل سے پوچھا کہ اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ خدا کی کتاب۔ اس میں آپ سے پہلے کی خبریں ہیں اور آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page