تقلید کے نقصانات
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد جو کچھ پیش آئے گا اس کی بھی خبریں ہیں (فِیہِ نَبَأُ مَا قَبْلَکُمْ، وَنَبَأُ مَا ھُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ) اور یہ کہ قرآن کے عجائب ختم نہ ہوں گے (وَلَا تَنْقَضِی عَجَائِبُہٗ) جامع الاصول لابن الاثیر، حدیث نمبر 6232۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں اللہ نے اولین اور آخرین کے علم کو جمع کر دیا ہے اور جو ہوا اور جو ہو گا ان سب کا علم بھی (جَمَعَ اللَّہُ فِی ھَذَا الکِتَابِ عِلْمَ الأوَّلِینَ وَالآخِرِینَ، وَعِلْمَ مَا کَانَ، وَعِلْمَ مَا يَکُونُ) جامع الاصول فی احادیث الرسول، اثر نمبر 6233۔ جب خدا کے بھیجے ہوئے دین میں قیامت تک کی باتیں چھپادی گئی ہیں تو لازم ہے کہ وہ ہر دور میں ظاہر ہوتی رہیں۔ مگر یہ کہنا شاید مبالغہ نہیں ہوگا کہ پچھلے چھ سو سال سے مسلم دنیا کوئی بھی ایسی کتاب پیش نہ کرسکی جس کو تخلیقی عمل (creative works) کہا جا سکے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی اجتہاد کے مسئلہ پر کتاب لکھتے ہیں اور اس کا نام خالص تقلیدی انداز میں عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید رکھتے ہیں۔ غالباً آخری تخلیقی کتاب جو مسلم دنیا پیش کرسکی وہ مقدمہ ابن خلدون ہے۔ اس کے بعد پچھلے چھ سو سال کے اندر جو کتابیں لکھی یا چھاپی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب روایتی اور تقلیدی انداز میں ہیں۔ نہ کہ تخلیقی اور اجتہادی انداز میں۔ مثال سے اس معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، موسیٰ کا ہم زمانہ مصری بادشاہ سمندر میں غرق کر دیا گیا تھا۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اس فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں“ (10:92)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader