پیغمبر اسلام کی سنتیں
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جو اس معاملہ میں آئیڈیل صورت ہوتی ہے۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اگر آئیڈیل یا معیاری حل پر اصرار کیا گیا تو بات مزید بگڑ جائے گی۔ ایسی حالت میں پیغمبرانہ سنت یہ ہے کہ معیاری حل پر اصرار نہ کیا جائے ، بلکہ عملی حل کو قبول کر لیا جائے۔ آزادانہ غور وفکر کا ماحول ہو تو آدمی اس سنت رسول کو دریافت کرے گا جس میں بیشمار فوائد چھپے ہوئے ہیں۔ اور اگر قدیم ذخیرہ پر آزادانہ غور وفکر کا ماحول نہ ہو تو وہ اس عظیم سنت سے آگاہ نہ ہو سکے گا۔ اور نتیجتاً اس کے دور رس فائدوں سے بھی محروم رہے گا۔ 2_ انھیں ’’نامعلوم‘‘ سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے جس کو سنت حدیبیہ کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس عظیم سنت رسول سے اتنا زیادہ بے خبر ہیں کہ اگر اس کو لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے تو عوام سے لے کر خواص تک یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ بزدلی اور پسپائی ہے : آئین جواں مردار حق گوئی و بے باکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی ایک ثابت شدہ سنت رسول سے یہ اجنبیت کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سنت کو سیرت کی کتابوں میں ’’غَزْوَةُ الْحُدَيْبِيَّة‘‘ کے تحت درج کیا گیا ہے (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد 3، صفحہ 312)۔ حدیبیہ کا واقعہ مختصر طور پر یہ ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ کا مقصد عمرہ کرنا تھا۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روکا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ یہ ایک بڑی نازک صورت حال تھی۔ یقینی معلوم ہوتا تھا کہ اگر آپ نے مکہ میں داخلہ پر اصرار کیا تو جنگ کی نوبت آجائے گی اور پھر جان و مال کی ہلاکت کے سوا کچھ اور حاصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader