پیغمبر اسلام کی سنتیں
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ہوگا۔ اس وقت آپ نے قریشِ مکہ سے گفت و شنید جاری کردی۔ اس کا نتیجہ دونوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ یہ دراصل ایک نا جنگ معاہدہ (no-war pact) تھا جس کی بیشتر دفعات بظاہر قریش کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ اس کے باوجود آپ اس صلح نامہ پر دستخط کر کے مدینہ واپس آگئے۔ یہ معاہدہ چودہ سو سال سے کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر تمام عوام و خواص اس کو بس ’’غزوہ حدیبیہ‘‘ ایک معاملہ سمجھتے ہیں، کیونکہ کتابوں میں وہ اسی عنوان کے تحت لکھا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک امن کا معاہدہ تھا اور امن کی طاقت کو استعمال کرنے کی ایک عظیم تدبیر۔ اس معاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عمل (Islamic activism) ایک پرامن عمل ہے۔ اسلامی عمل تشدد کی طاقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ امن کی طاقت پر مبنی ہے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اگر جنگ اور ٹکراؤ کی حالت قائم ہو جائے تو اسلام کی طاقتِ امن کا ظہور رک جائے گا۔ اس لیے اہلِ ایمان کو ایسا کرنا چاہیے کہ جب دونوں فریقوں میں اس قسم کی صورت حال پیدا ہو جائے تو وہ فریق ثانی کی شرائط کو یک طرفہ طور پر مان کر اس سے صلح کر لیں۔ تا کہ وہ فضا پیدا ہو جس میں اسلام کی امن کی طاقت کو بروئے کار آنے کا موقع مل جائے۔ یہ ایک عظیم حکمت ہے۔ اس حکیمانہ عمل میں، قرآن کی شہادت کے مطابق، فتح مبین کا راز چھپا ہوا ہے۔ مگر موجودہ مسلمان اس تسخیری سنت کو اختیار کرنے سے محروم ہیں، اور اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے تقلیدی ذہن کی وجہ سے اس کو سنتِ رسول کے طور پر جانتے ہی نہیں۔ 3- اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ ہے جس کو غزوہ خندق یا غزوہ احزاب کہا جاتا ہے۔ یہ غزوہ 5 ھ میں پیش آیا۔ اس میں بارہ ہزار کی نہایت مسلح فوج نے مدینہ کو گھیر لیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader