Urdu book · فکر اسلامی

پیغمبر اسلام کی سنتیں

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ نہایت سخت معاملہ تھا۔ قرآن میں اس کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے: جب وہ اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے ۔ جب خوف سے آنکھیں پتھرا گئیں ۔ کلیجے منہ کو آگئے ۔ اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان والے خوب آزمائے گئے اور وہ بری طرح ہلا مارے گئے(11-10: 33)۔ اس وقت مسلمان مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ چنانچہ شہر کے باہر خندق کھود کرٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم مسئلہ ختم نہیں ہوتا تھا۔ شدید محاصرہ کی یہ حالت تقریباً 25 دن تک جاری رہی۔ اس انتہائی مشکل موقع پر ایک مسلمان نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اس کا نام نعیم بن مسعود تھا۔ نعیم بن مسعود نے رات کے وقت آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک ایسا شخص ہوں جس کو دونوں طرف کا اعتماد حاصل ہے۔ ایک طرف میں سچے دل سے مسلمان ہو چکا ہوں۔ دوسری طرف سابقہ تعلق کی بنا پر ابھی تک قریش اور یہودی میری عزت کرتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ بھاگ جاؤ، تم ہمارے دشمن کے ایجنٹ ہو۔ بلکہ آپ نے خوش ہو کر فرمایا: اِنَّمَا أَنْتَ فِيْنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 247)۔ یعنی ، تم تو ہمارے درمیان ایک ہی ایسے آدمی ہو۔ چنانچہ آپ نے اس آدمی کو استعمال کیا ، اور اس نے ایک ایسی حکیمانہ تدبیر کی کہ دشمن محاصرہ ختم کر کے واپس چلے گئے۔ اس معاملہ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ نعیم بن مسعود نے اس موقع پر وہی رول ادا کیا جس کو درمیانی (intermediary) شخص کا رول کہا جاتا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بھی ہے کہ درمیانی شخص‘‘ کی عزت کی جائے۔ اس کے اوپر بھروسہ کیا جائے۔ اور اس کو باہمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page