فکر اسلامی
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملات کی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان چونکہ "سنت رسول" کی کتابوں میں اس سنت کو لکھا ہوا نہیں پاتے، اس لیے وہ اس سنت سے واقف بھی نہیں ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اس کا زبردست نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ سر سید احمد خان گویا مسلمانوں اور انگریزوں کے بیچ میں درمیانی شخص تھے۔ مگر ہمارے علما ان کی قدر نہیں کر سکے بلکہ ان کی تکفیر و تفسیق کر کے انھیں مسلم معاشرہ سے کاٹنے کی کوشش کی۔ اسی طرح مولا نا ابو الکلام آزاد مسلمانوں اور ہندوؤں کے بیچ میں درمیانی شخص بن گئے تھے۔ مگر سنت نبوی سے اس ناواقفیت کی بنا پر ان کو بھی مسلمانوں نے مشتبہ سمجھا اور انھیں "شوبوائے" کا لقب دے کر ذلیل کیا۔ اس طرح مسلمان ان فوائد سے محروم ہو گئے جو مولا نا آزاد کے ذریعہ انھیں اس ملک میں پہنچ سکتے تھے۔ اسی طرح ساری مسلم دنیا میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ مغربی قوموں اور مسلمانوں کے بیچ میں درمیانی گروہ بن گیا تھا۔ ان کے ذریعہ مسلمان بہت سی مضر توں سے بچ سکتے تھے اور بہت سے فوائد حاصل کر سکتے تھے۔ مگر ساری دنیا کے مذہبی طبقہ نے ان کو شبہ کی نظر سے دیکھا۔ اور انھیں مغرب زدہ قرار دے کر ان کو دشمنوں کی صف میں کھڑا کر دیا۔ اسپین کی تاریخ بر عکس صورت میں یہاں میں اضافہ کروں گا کہ اجتہادی بصیرت سے محرومی کی بنا پر موجودہ صدی میں ہمارے ساتھ جو المیہ پیش آیا، یہی برعکس صورت میں مسیحی چرچ کی بے بصیرتی کے نتیجہ میں اسپین میں ان کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں اسپین میں مسلمانوں کا داخلہ محض ایک سیاسی داخلہ نہ تھا، وہ نئے علوم اور نئی تکنیک کا داخلہ تھا۔ چنانچہ مسلمانوں نے اسپین میں صرف اپنی سیاسی بالا دستی قائم نہیں کی۔ بلکہ انھوں نے غیر معمولی محنت سے ملک کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader