اسپین کی تاریخ برعکس صورت میں
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ بدل دی۔ انھوں نے اسپین کو ہم عصر یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ لیکن اس زمانہ کے مسیحی علما ٹھیک اسی طرح اجتہادی بے بصیرتی کا شکار تھے جس طرح مسلم علما انیسویں صدی میں اجتہادی بے بصیرتی میں مبتلا ہو گئے۔ چنانچہ ان مسیحی علما نے اپنے ملک میں مسلمانوں کے سیاسی داخلہ کو تو دیکھا مگر وہ ان کے اس پہلو کو نہ دیکھ سکے کہ وہ جدید علمی اور فنی ترقیوں کے نقیب (harbinger) بن کر یہاں آئے ہیں۔ اپنی اس بے بصیرتی کو انھوں نے مسلمانوں کے اوپر انڈیل دیا اور انھیں اپنے ملک سے نکالنے کی مجنونانہ کوشش شروع کردی۔ جب کہ مقامی اسپینیوں کی علمی پس ماندگی کا یہ عالم تھا کہ مسلمان جب مجبورا نہ طور پر اسپین سے واپس آگئے تو ان کی چھوڑی ہوئی رصد گاہوں کا کوئی مصرف اسپینی مسیحیوں کو معلوم نہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے ان رصد گاہوں کو چرچ کے گھنٹہ گھر میں تبدیل کر دیا۔ نومبر 1994ء میں میں نے اسپین کا سفر کیا تھا۔ میں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ اسپین دوسرے ترقی یافتہ یورپی ملکوں کے مقابلہ میں کمتر درجہ کا ملک نظر آتا ہے۔ جب کہ آٹھ سو سال پہلے وہ جدید ترقیات کا ہر اول بنا ہوا تھا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مسیحی علما اسپینی مسلمانوں کے علمی پہلو کو نہ دیکھ سکے۔ وہ صرف ان کے سیاسی پہلو کو دیکھ کر ان کے ساتھ منتقمانہ لڑائی لڑنے لگے۔ موجودہ زمانہ میں خود یورپ کے انصاف پسند مفکرین نے اعتراف کیا ہے کہ اسپین اگر مسلمانوں کے ساتھ سیاسی انتقام میں نہ پڑتا اور ان کی لائی ہوئی علمی اور فنی ترقیوں میں شریک ہو جاتا تو آج بلا شبہ اسپین براعظم یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ انیسویں صدی میں جس مجتہدانہ رہنمائی کی ضرورت تھی وہ یہ تھی کہ مسلم علما یہ فتوی دیتے کہ یورپی قوموں سے سیاسی ٹکراؤ کو نظر انداز کرو اور اس کے بجائے ایک طرف ان قوموں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader