اسپین کی تاریخ برعکس صورت میں
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
پرامن انداز میں دعوت حق کا مخاطب بناؤ، اور دوسری طرف جدید تعلیم اور ریسرچ میں ان کے شریک بن جاؤ۔ اس طرح ایک طرف اسلام کی اشاعت ہوتی۔ اور دوسری طرف مسلمان جدید علوم اور جدید ترقیوں میں دوبارہ اپنا وہ سفر شروع کر دیتے جو پندرھویں صدی میں اسپین میں ختم ہوگیا تھا۔ مگر مجتہدانہ بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے یہ سارا امکان استعمال ہونے سے رہ گیا۔ موجودہ زمانہ میں جب مغربی قو میں مسلم علاقوں میں گھس گئیں تو مسلم علما نے قدیم روایات کے مطابق، ان کے خلاف تیر اور تلوار اکٹھا کیے اور ان سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ ان کا یہ اقدام کامل شکست اور تباہی کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس المیہ کا سبب مغربی قوموں کی سازشیں نہیں تھیں، جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے، بلکہ خود مسلم رہنماؤں کی اجتہادی نااہلی تھی۔ اصل یہ ہے کہ ہتھیار کا تعلق زمانی حالات سے ہے۔ قدیم زمانہ کا حریف چونکہ تیر اور تلوار سے مسلح ہو کر آتا تھا اس لیے ہمارے اسلاف نے تیر اور تلوار سے مسلح ہو کر اس کا بھر پور مقابلہ کیا۔ لیکن مغربی استعمار کا معاملہ قدیم حریفوں سے بالکل مختلف تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے پچھلے کئی سو سال کے عمل کے نتیجہ میں خود قوت کے معیار کو بدل دیا تھا۔ اب قوت کا سر چشمہ علم تھا نہ کہ تلوار ۔ مسلم رہنما اگر اس راز کو جانتے تو وہ کہتے کہ نئے حریف سے مقابلہ کرنے کے لیے علم کی قوت فراہم کرو۔ موجودہ زمانہ میں بعض سیکولر مسلمانوں نے مسلمانوں کو جدید علوم کے حصول کی طرف متوجہ کیا اور اس سلسلہ میں قرآن کی ان آیتوں کا حوالہ دیا جن میں علم کا ذکر ہے۔ لیکن ہمارے علما نے یہ بحث چھیڑ دی کہ قرآن میں علم سے مراد علم دین ہے، نہ کہ جدید طبیعی علوم جو یورپ کے راستہ سے آرہے ہیں۔ ہمارے علما کم از کم دو سو سال تک اس غیر متعلق بحث میں الجھے رہے، یہاں تک کہ مسلم قوم علوم جدیدہ میں ساری دنیا سے بچھڑ گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader