Urdu book · حدیث رسول

حدیث رسول

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

اَنْ يَّضُرُّوْكَ بِشَيْءٍ لَّمْ يَضُرُّوْكَ اِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ (مشكوة المصابيح) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لڑکے، میں تم کو کچھ باتیں بتا رہا ہوں۔ تم اللہ کو یاد رکھو، اللہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اللہ کو یاد رکھو، تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب تم سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد مانگو تو اللہ سے مدد مانگو۔ اور جان لو کہ تمام لوگ مل کر تم کو کوئی فائدہ پہونچانا چاہیں تو وہ تم کو کوئی فائدہ نہیں پہونچا سکتے الا یہ کہ اللہ نے اس کو تمہارے لیے لکھ دیا ہو۔ اور اگر تمام لوگ مل کر تم کو کوئی نقصان پہونچانا چاہیں تو وہ تم کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے الا یہ کہ اللہ نے اس کو تمہارے اوپر لکھ دیا ہو۔ 45 عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا ، فَدَعَا وَصِيْفَةً لَّهُ اَوْ لَهَا- فَأَبْطَأَتْ ، فَاسْتَبَانَ الْغَضَبُ فِيْ وَجْهِهِ ، فَقَامَتْ اُمُّ سَلَمَةَ إِلَى الْحِجَابِ فَوَجَدَتِ الْوَصِيْفَةَ تَلْعَبُ ، وَمَعَهُ سِوَاكٌ فَقَالَ لَوْلَا خَشْيَةُ الْقِوَاِدِ لَاَوْجَعْتُكَ بِهَذَا السِّوَاكِ (الادب المفرد للامام البخاري) اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے۔ پھر آپ نے خادمہ کو بلایا۔ اس نے آنے میں دیر کی۔ آپ کے چہرے پر غصّہ کے آثار ظاہر ہو گیے۔ اُمّ سلمہ نے پردہ سے باہر دیکھا تو انھوں نے پایا کہ وہ کھیل رہی ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسواک تھی ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر قیامت کے دن کے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تم کو اس مسواک سے مارتا۔ عَنْ اَنَسٍ رَ قَالَ ، قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوْتَى بِاَنْعَمِ اَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page