Urdu book · حدیث رسول

حدیث رسول

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

کر دیتا ہے۔ اور بندہ خدا کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے ، وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر وہ بات اس کو جہنم میں گرا دیتی ہے۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَوْصِنِي ، قَالَ أَوْصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، فَإِنَّهُ أَبْنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهِ ، قُلْتُ زِدْنِي ، قَالَ عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهُ ذِكْرُ لَكَ فِي السَّمَاءِ وَنُورُ لَكَ فِي الْأَرْضِ (مشکوة) ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ مجھ کو نصیحت فرمائیے۔ آپ نے کہا۔ میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں ، کیوں کہ وہ تمہارے تمام معاملات کو درست کرنے والا ہے ، میں نے کہا کہ کچھ اور نصیحت کیجئے ۔ آپ نے کہا تم قرآن کو پڑھو اور اللہ کو یاد کرتے رہو ، کیوں کہ اس سے تم آسمان میں یاد کیے جاؤ گے ۔ اور زمین میں وہ تمہارے لیے روشنی ہوگی ۔ 52 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرُ (الترمذی) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک اس کی سانس نہ اکھڑ جائے ۔ 53 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَءُ كَمَا يَصْدَءُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ (مشکوة)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page