Urdu book · حدیث رسول

حدیث رسول

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ " وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ" (مسلم والترمذي) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا : اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہوگے۔ اور اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور کبھی نہ مرو گے ۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ خوش حال رہو گے اور کبھی محتاجی میں مبتلا نہ ہوگے۔ یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کہ اور پکارا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ تم جو کچھ کرتے تھے اس کے بدلے میں تم کو اس کا وارث بنا دیا گیا۔ 66 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَض قَالَ، قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِصَحَابَتِي؟ قَالَ أُمُّكَ، فَقَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ أُمُّكَ، فَقَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ أُمُّكَ، فَقَالَ ثُمَّ مَنْ؟ فَقَالَ ثُمَّ أَبُوكَ (بخاري ومسلم) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے، آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ۔ اس نے کہا کہ پھر کون۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ پھر کون ۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ پھر کون۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا باپ۔ 67 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُهُ رَغِمَ أَنْفُهُ رَغِمَ أَنْفُهُ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ (مسلم)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page