حدیث رسول
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
(بخاری و مسلم) اسماء بنت ابوبکر کہتی ہیں کہ معاہدہ حدیبیہ کے زمانہ میں میری (رضاعی) ماں میرے پاس آئی اور وہ شرک پر تھی۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، میری مشرک ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ کچھ چاہتی ہے، کیا میں اس کو کچھ دوں ۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ 71 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ع أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ (مسلم) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب آدمی مرتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے، سوا تین کے ۔ صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے نفع اٹھایا جائے یا صالح اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے۔ 72 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ 5 قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ يَارَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَنِي وَأَحْسَنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ، فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُهُمُ الْمَلَّ ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَادُمْتَ عَلَى ذَلِكَ (مسلم) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، میرے کچھ رشتہ دار ہیں۔ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ قطع رحم کرتے ہیں۔ میں ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader