حدیث رسول
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
علی بن طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔ تم مظلوم کی بد دعا سے بچو، کیونکہ وہ اللہ سے اپنا حق مانگتا ہے۔ اور اللہ کسی صاحب حق سے اس کے حق کو نہیں روکتا۔ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةً (مسلم) انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔ کوئی مسلمان کاشت کرے یا درخت لگائے، پھر اس میں سے کوئی چڑیا یا انسان یا جانور کھالے تو اس پر اس کو صدقہ کا ثواب ملے گا۔ 129 عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ ، فَإِنَّ تَرَكَ مَا يَشْتَبِهُ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ أَتْرَكَ وَمَنْ اجْتَرَءَ عَلَى مَا يَشُكُّ فِيهِ مِنْ الْإِثْمِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ، وَالْمَعَاصِي حِمَى اللَّهِ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ (بخاری ومسلم) نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں۔ جو شخص مشتبہ گناہ کو چھوڑ دے گا وہ کھلے گناہ کو اور بھی زیادہ چھوڑنے والا ہو گا۔ اور جو شخص مشتبہ گناہ کے معاملہ میں جری ہوگا اس کے متعلق اندیشہ ہے کہ وہ کھلے گناہ میں بھی پڑ جائے۔ اور گناہ کی حیثیت اللہ کی ممنوعہ چراگاہ کی ہے۔ جو جانور ممنوعہ چراگاہ کے کنارے سے چرتا ہے ، اندیشہ ہے کہ وہ اس کے اندر داخل ہوجائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader