حدیث رسول
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
اَكَلَهُ وَاِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ (بخاری، مسلم) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے کبھی کسی کھانے پر عیب نہیں لگایا۔ اگر پسند ہواتو اس کو کھا لیا اور اگر نا پسند ہواتو اس کو چھوڑ دیا۔ 155 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا وَّ لَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ (ابو داؤد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کبھی تکیہ لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے اور نہ کبھی کسی نے دیکھا کہ دو آدمی بھی آپ کے پیچھے چلتے ہوں۔ 156 عَنِ السَّّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ شَرِيكِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكِ لَا تُمَارِينِي وَلَا تُمَارِينِي (ابو داؤد) سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے کہا کہ آپ زمانہ جاہلیت میں میرے شریک تجارت تھے۔ آپ بہترین شریک تھے۔ آپ مجھ کو نہ کبھی دھوکا دیتے اور نہ کبھی مجھ سے جھگڑا کرتے۔ 157 عَنْ يَعْلَى أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا (الترمذی) حضرت یعلی کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ سے رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی قرات قرآن کے بارہ میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی قرأت بالکل صاف ہوتی تھی، حرف حرف سنائی دیتا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader