حدیث رسول
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
خزیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا۔ جھوٹی گواہی اللہ سے شرک کرنے کے برابر ہے۔ یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: تم بتوں کی گندگی سے بچو اور تم جھوٹی بات سے بچو۔ اللہ کے لیے یکسو ہو جاؤ۔ اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔ 168 عَنْ عُبَادَةَ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ ، عَنِ امْرَأَةٍ مَيِّتُهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسَيْلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ ۔ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ ؟ قَالَ لَا ، وَلَكِنَّ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ (مشكوة ، ۱۳۵/۳) ایک شخص نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول کیا یہ عصبیت ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ بلکہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔ 169 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ ؟ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ، قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ ؟ قَالَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَهُ (مشكوة) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ یہ کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرو جو اس کو پسند نہ ہو۔ سوال کیا گیا کہ اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر اس میں وہ چیز ہو جو تم نے کہی تو یہ غیبت ہے اور اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader