حدیث رسول
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
الیٰ مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ (بخاری و مسلم) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا مدار نیت پر ہے۔ اور کسی آدمی کے لیے صرف وہی ہے جس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ 9 عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَؓ قَالَ، جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَرَأَیْتَ رَجُلًا غَزَا یَلْتَمِسُ الْاَجْرَ وَالذِّکْرَ مَا لَہُ؟ قَالَ لَا شَیْءَ لَہُ، فَاَعَادَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا شَیْءَ لَہُ، ثُمَّ قَالَ اِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ اِلَّا مَا کَانَ لَہُ خَالِصًا وَابْتُغِیَ بِہٖ وَجْہُہٗ (ابوداؤد، نسائی) ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے آپ سے پوچھا کہ ایک شخص جہاد کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کو اجر ملے اور اس کو شہرت حاصل ہو۔ ایسے شخص کے لیے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس نے یہی بات تین بار پوچھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی کہتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ صرف وہی عمل قبول کرے گا جو خالص اس کے لیے تھا اور جس سے صرف اسی کی رضا چاہی گئی تھی۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَحْسَنَ فِی الْاِسْلَامِ لَمْ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader