Urdu book · حل یہاں ہے

سابق حاملین کتاب

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

سابق حاملین کتاب یہود ماضی میں خدا کی کتاب کے حامل بنائے گئے تھے۔ یہود کے ماضی میں امت مسلمہ کے مستقبل کے لئے سبق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی ابتدائی سورتوں میں کثرت سے یہود کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ حدیث میں خبر دی گئی ہے کہ بگاڑ کی جو صورتیں یہود کے ساتھ پیش آئیں وہ سب کی سب مسلمانوں کے ساتھ بھی پیش آئیں گی۔ لتتبعن سنن من كان قبلكم شبراً بشبر وذراعاً بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب لتبعتموهم (بخاری و مسلم) حقیقت یہ ہے کہ جو قومیں خدا کی کتاب کی حامل بنائی جاتی ہیں، ان کا کیس ہمیشہ یکساں ہوتا ہے۔ ان کی کامیابی کا بھی ایک ہی اصول ہے اور ان کی ناکامی کا بھی ایک ہی اصول ۔ اس اعتبار سے یہود کی تاریخ ہر اس قوم کی تاریخ ہے جو خدا کی کتاب کی حامل بنائی جائے۔ اس میں مسلمانوں کے لئے بھی اتنا ہی سبق ہے جتنا خود یہود کے لئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل ( یہود ) پر خدا کے انعامات کا جو آغاز ہوا تھا، اس کی تکمیل اس طرح ہوئی کہ انھیں خدا کی مدد سے یہ موقع ملا کہ انھوں نے فلسطین میں داخل ہو کر پورے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد یہود کی تاریخ مسلسل اتار چڑھاؤ کی تاریخ ہے۔ نیک عملی پر انعام اور بدعملی پر سزا۔ سموئیل نبی کے زمانہ میں یہود کی خود مختار اور متحدہ سلطنت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ سلطنت ان کے تینوں حکمرانوں (طالوت، داؤد ، سلیمان) کے زمانہ تک رہی جن کا مشترک دور ۱۰۲۰ ق م سے لے کر ۹۲۶ ق م تک ہے۔ حضرت سلیمان کے بعد فلسطین کی سلطنت دو الگ الگ حصوں (اسرائیل اور یہودیہ) میں تقسیم ہو گئی۔ ان کا دینی بگاڑ اور سیاسی اختلاف بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ نویں صدی قبل مسیح میں ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اشوری حکمرانوں نے فلسطین پر حملے شروع کئے اور بالآخر سلطنت اسرائیل کا خاتمہ کر دیا۔ ۶۰۴ ق م میں بابل (عراق) کا حکمران نبو خدنصر اٹھا اور شام پر قبضہ کر کے فلسطین کی سرحد تک پہنچ گیا۔ اس کے خوف سے یہودیہ (فلسطین) کا اسرائیلی بادشاہ یہو یاکم اس کو خراج دینے پر مجبور ہو گیا۔ تاہم کچھ عرصہ بعد یہو یا کم کے دماغ میں آیا کہ مصر کا ساتھ دینا اس کے لئے زیادہ مفید ہوگا۔ چنانچہ اس نے شاہ بابل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page