Urdu book · حل یہاں ہے

سابق حاملین کتاب

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

سے بغاوت کر دی اور اس کو خراج دینا بند کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں شاہ بابل اسرائیل پر غضب ناک ہو گیا اور فلسطین پر حملہ کی تیاریاں کرنے لگا۔ اس درمیان میں یہو یا کم کا انتقال ہو گیا اور اس کا لڑکا یہوخیم تخت پر بیٹھا۔ بابل کی فوجوں نے فلسطین پر حملہ کر کے اس کو زیر کر لیا اور شاہ یہوخیم کو گرفتار کر کے بابل لے گیا۔ بابل کے حکمراں نے فلسطین کی یہودیہ سلطنت کا نیا انتظام اس طرح کیا کہ سابق شاہ کے چچازدکیاہ کو اپنا ماتحت عامل مقرر کر دیا۔ اس وقت بنی اسرائیل میں یر میاہ بنی اٹھے۔ انھوں نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم لوگ حقیقت سے نہ لڑو اور موجودہ سیاسی نظام کو تسلیم کر لو۔ اور حکومت سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر دینی اور تعمیری انداز میں کام کرو۔ مگر بنی اسرائیل کے اندر جھوٹے لیڈر اٹھے۔ انھوں نے جذباتی تقریریں کیں اور رومانی اشعار سنائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل جھوٹی خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے۔ وہ حقیقت پسندی کا طریقہ نہ اختیار کر سکے۔ ان کا بادشاہ زد کیاہ بغاوت پر آمادہ ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بابل کے حکمراں بنو خدنصر نے دوبارہ فلسطین پر حملہ کر دیا۔ کئی مہینے کے محاصرہ کے بعد اس نے یروشلم کو اور یہودیوں کے عبادت خانہ کو بالکل تباہ کر ڈالا۔ یہ واقعہ ۵۸۶ ق م میں پیش آیا۔ شاہ زدکیاہ نے اس کے بعد بھاگنے کی کوشش کی۔ مگر وہ پکڑ اگیا اور دوسرے بہت سے اعیان و اکابر کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ بے شمار اسرائیلی پکڑ کر بابل لے جائے گئے تاکہ وہ بابلیوں کے لئے بیگار کا کام کر سکیں۔ یہودی (جو دور قدیم کے مسلمان تھے) ان کے ساتھ پچھلی تاریخ میں کثرت سے اس طرح کے شدید واقعات پیش آئے ہیں۔ وہ لوگ بطور خود ان واقعات کو ظالموں کے ظلم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں ۔ مگر خدا کے نزدیک ان واقعات کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ وہ ان تمام واقعات کو خود یہودیوں کے خانہ میں ڈالتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ یہودیوں کے اپنے بگاڑ کے نتیجہ میں پیش آنے والی خدائی سزائیں ہیں نہ کہ حقیقۃ ظالم کا ظلم۔ اس سلسلہ میں یہود کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے دور زوال میں ان کے یہاں ایسا ہوا کہ کثرت سے خوش خیال قائدین کھڑے ہو گئے۔ ایسے لوگوں کو بابل میں جھوٹی نبوت کرنے والے کہا گیا ہے۔ بابل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ یہود کی تاریخی عظمت بیان کر کے انھیں جھوٹے فخر کی شراب پلاتے ۔ وہ مبالغہ آمیز انداز میں یہود کی حیثیت کو بڑھانے اور ان کے دشمنوں کو گھٹاتے۔ وہ جذباتی الفاظ بول کر انھیں خیالی دنیا میں مگن رکھتے۔ اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page