Urdu book · حل یہاں ہے

سابق حاملین کتاب

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

یہود حقیقت پسندی سے بہت دور ہو گئے۔ وہ حقیقی عمل کے بجائے جذباتی کارروائیوں سے نتیجہ کی امید کرنے لگے۔ عین اسی زمانہ میں خدا نے ایسے افراد اٹھائے جو بابل کے الفاظ میں "سچی نبوت کرنے والے" تھے۔ انھوں نے یہود کو حقیقت پسندی کا سبق دیا۔ ان کی اندرونی کمزوریوں سے ان کو باخبر کیا۔ ان کو بتا دیا کہ تم تمھارے جھوٹے فخر سے کچھ ملنے والا نہیں ۔ خدا کی دنیا میں حقیقی عمل کی قیمت ہے نہ کہ جھوٹے فخر اور خوش خیالیوں کی۔ مگر یہود کو ان کی باتیں پسند نہ آئیں ۔ وہ انھیں کے پیچھے چل پڑے جو ان کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے، اور ان کو خوش خیالیوں میں مبتلا رکھتے تھے۔ اس بنا پر وہ بار بار اپنے حریف کے خلاف ایسے اقدامات کرتے رہے جس کا نتیجہ صرف ان کی شکست اور مزید ذلت تھی۔ یہود کی تاریخ کی یہ تفصیلات بابل کی کتاب یرمیاہ (باب ۲۷- ۳۰) میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان تفصیلات کے مطالعہ سے واضح طور پر حسب ذیل باتیں سامنے آتی ہیں ۔ ۱۔ دورِ زوال میں یہود پر بار بار یہ تنبیہاں آئیں ان کی مکمل ذمہ داری خود یہود پر ڈالی گئی ہے۔ ان صفحات میں دوسری قوموں کے ظلم اور سازشوں پر ان کو برا بھلا نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ خود یہود کو نصیحت کی گئی ہے کہ یہ سب کچھ صرف اس لئے ہورہا ہے کہ تم نے اپنے خدا کو ناراض کر لیا ہے۔ یہ خدا اوندی تنبیہہ ہے نہ کہ انسانی فساد۔ تم سارا اہتمام اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے کرو اور پھر تمھارا کھویا ہوا مقام تمھیں دوبارہ حاصل ہو جائے گا۔ گویا موجودہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا راز خدائی قانون میں تلاش کرنا چاہئے نہ کہ انسانی سازشوں میں۔ ۲۔ زوال کے زمانہ میں مجاہدانہ اقدام" سے صراحتاً روکا گیا ہے۔ ان کو تاکید کی گئی ہے کہ غالب قوم سے موافقت کرکے رہ ہو۔ دوسروں سے ٹکرانے کے بجائے صرف اپنی تعمیر میں لگ جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض حالات میں داخلی تعمیر کا نام جہاد ہوتا ہے نہ کہ خارجی اقدام کرنے کا۔ ۳۔ تنزل کے دور میں یہود کے اندر ایسے شاعر اور خطیب پیدا ہوئے جو انھیں قومی عظمت کے ترانے سناتے اور بڑی بڑی امیدیں دلا کر انھیں اقدام پر اکساتے ۔ بابل کے الفاظ میں یہ لوگ فتنہ انگیز ہیں ۔ وہ بظاہر فلاح کی باتیں کرتے ہیں مگر حقیقتاً وہ ایسے راستہ کی طرف بلاتے ہیں جس کا نتیجہ صرف ہلاکت ہو۔ ایسے لوگوں کو غلط قرار دیتے ہوئے بائبل میں تلقین کی گئی ہے کہ تم لوگ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرو۔ اقتدار وقت سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی تعمیر واستحکام میں لگ جاؤ۔ ” ستر برس “ تک جب تم ایسا کروگے تو خدا تمھارے دن کو تمھارے لئے لوٹا دے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page