Urdu book · حل یہاں ہے

فسادات کا مسئلہ

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

خواہ کتنی ہی تلخ یادیں ہوں، زندگی کے روزمرہ کے مسائل ان پر غالب آجاتے ہیں۔ برادران وطن کے معاملے میں اس عامل کی اور بھی زیادہ اہمیت ہے۔ کیونکہ “زر“ ان کے نزدیک معبود کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کا ہر آدمی سب سے زیادہ جس چیز کو پانا چاہتا ہے وہ دولت ہے۔ ان کی خوش قسمتی سے ملک میں دولت حاصل کرنے کے تمام بڑے ذرائع پر ان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے۔ حتی کہ خود مسلمان ان کی دولت کی فراہی کے عمل میں ایک معاون پرزہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اس ملک میں فساد کے خلاف سب سے بڑا روک ہے۔ کیونکہ فساد کاروبار کے سارے نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ پھر جن لوگوں کا اصل مقصد پیسہ کمانا ہو وہ اپنے ملے ہوئے مقصد کو خود اپنے ہاتھوں ویران کرنا کیوں پسند کریں گے۔ مراد آباد کی مثال لیجئے جہاں اگست ۱۹۸۰ میں بھیانک فساد ہوا۔ مراد آباد ایک صنعتی شہر ہے، یہاں سے سالانہ تقریباً ۶۰ کروڑ روپے کا سامان تیار ہو کر باہر جاتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سامان بنانے کا کام سب کا سب مسلمان کرتے ہیں۔ مگر کاروبار عملاً دوسرے فرقہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خام مال کی سپلائی اور تیار شدہ سامان کی فروخت دونوں کام کا تقریباً ۹۰ فی صد حصہ دوسرے فرقہ کے قبضہ میں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کارخانوں میں دھوئیں اور گندگی کے درمیان ساری مشقت مسلمان اٹھاتے ہیں اور دوسرا فرقہ ان کی محنت کے اوپر کاروبار کرتا ہے اور اس سے ایک بڑی رقم کماتا ہے۔ اس کا مطلب جب اتنے شاندار طریقے مل رہا ہو تو وہ آخر فساد کیوں چاہیے گی۔ وہ بازار کو ویران کر کے اپنے ملتے ہوئے فائدہ کو بھنگ کس لئے کرے گی ۔ اس کے باوجود اس ملک میں فساد ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ۱۹۱۷ سے لے کر اب تک تقریباً ہزار فسادات ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ وہ یہ کہ ہر آدمی دو آدمی ہوتا ہے۔ ایک غصہ دلانے سے پہلے، دوسرا غصہ دلانے کے بعد۔ بظاہر ہر سیدھا سادہ آدمی بھی غصہ میں آنے کے بعد بھیٹریا بن جاتا ہے۔ یہ فرق ہر آدمی میں پایا جاتا ہے۔ پھر جب کسی اشتعال انگیز واقعہ کے بعد اس شخص یا گروہ کا دوسرا انسان، جاگ اٹھے جس کے اندر فریقِ ثانی کے لئے پہلے سے نفرت کے اسباب چھپے ہوئے تھے اور وہ اس کے مقابلہ میں طاقتور بھی ہو تو اس کے بعد وہ جو کچھ کرے گا وہ وہی ہوگا جس کا نمونہ ہم پچھلے ۳۵ سال سے دیکھ رہے ہیں۔ زہر پرستی آدمی کے اندر انفرادیت پیدا کرتی ہے۔ اس لئے ایک شخص کی طرف سے کسی کے خلاف ابتدائی شتعال کا واقعہ پیش آنے کے بعد بھی شاید ایسا نہ ہوتا کہ ایک فرقہ میں عمومی سطح پر اشتعال و انتقام کی فضا پیدا ہو جائے ۔ مگر یہاں بقیہ کمی کو سیاسی لیڈر پوری کر دیتے ہیں۔ ہر بار جب الیکشن ہوتا ہے تو فطری طور پر کوئی جیتتا ہے اور کوئی ہارتا ہے۔ اب جو ہارنے والے لیڈر ہیں وہ اس تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو اس کو ہوا دے کر عمومی فساد کرا دیں۔ تاکہ ایک طرف جیتی ہوئی حکمراں پارٹی کو بدنام کیا جائے اور دوسری طرف ان ووٹروں کو سزا دی جائے جنھوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا۔ اور بدقسمتی سے یہ " ووٹ نہ دینے والے ، اکثر مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ اگر ہر فساد نہیں تو اکثر فساد کے پیچھے یہی الیکشنی سیاست کارفرما ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لوگ اپنی مرضی کے خلاف فیصلہ قبول کرنے پر راضی نہ ہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page