استحقاق نہ کہ مطالبہ
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا منظم استحصال کیا ۔ عیسائیوں کے ہم عقیدہ حکمرانوں نے ملک کو تقسیم کرنے میں تقسیم پسندوں کا ساتھ دیا۔ عیسائیوں کی مذہبی وفاداری کا مرکز ہندوستان سے باہر واقع ہے ۔ عیسائی مشنریوں پر یہ الزام ہے کہ وہ استعماری طاقتوں کے اگلے دستہ کا کام کرتی ہیں ۔ اس کے باوجود ہندوستان میں عیسائیوں کے تمام مفادات پوری طرح محفوظ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس ملک کے لیے نفع بخش گروہ بنے ہوئے ہیں۔ وہ اس ملک میں دینے والے ہیں نہ کہ صرف لینے والے ۔ عیسائیوں کی تعداد ہندوستان میں دو کروڑ سے کچھ زیادہ ہے ۔ وہ آبادی کا تقریباً دو فی صد حصہ ہیں ۔ جب کہ مسلمان کم از کم بارہ فی صد حصہ ہیں ۔ مگر دونوں فرقوں میں یہ زبردست فرق ہے کہ عیسائیوں نے اس ملک میں اسپتال ، تعلیم گاہیں اور رفاہی ادارے اتنی بڑی مقدار میں قائم کر رکھے ہیں جو ان کی اپنی آبادی کی ضرورت سے بہت زیادہ ہیں ۔ سرکاری ملازمین اور حکام کی بہت بڑی تعداد عیسائی اداروں کی تعلیم یافتہ ہے ۔ عیسائیوں کے قائم کئے ہوئے اسپتال اس ملک کے بہترین اسپتال سمجھے جاتے ہیں ۔ معذوروں حتی کہ کوڑھھیوں تک کی خدمت کے لیے انہوں نے بے شمار ادارے قائم کر رکھے ہیں ۔ وغیرہ ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس ملک میں صرف احتجاج اور مطالبہ کرنے والے گروہ بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے پاس خود اپنی قومی ضرورت کے بقدر بھی تعلیم گاہیں اور اسپتال اور رفاہی ادارے نہیں ہیں ۔ کجا کہ وہ ان میدانوں میں دوسرے فرقوں کے خادم بن سکیں ۔ یہ صورت حال قانون قدرت کے سراسر خلاف ہے ۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو جس تعصب یا امتیاز کی شکایت ہے وہ خدائی قانون کی بنا پر ہے نہ کہ کسی ظالم کے ظلم کی بنا پر ۔ اس دنیا کا خالق خدا ہے ۔ یہاں وہی ہوتا ہے جو خدا چاہتا ہے کہ ہو۔ خدا نے پیاس بجھانے کے لیے پانی بنایا ہے اور گاڑی چلانے کے لیے پیٹرول ۔ اب آپ کی کامیابی اسی میں ہے کہ آپ پانی کو اپنی پیاس بجھانے کے لیے استعمال کریں ۔ اور جب گاڑی چلانا ہو تو پیٹرول کے ذریعہ گاڑی چلائیں ۔ اگر آپ اس کے برعکس عمل کریں یعنی پیٹرول سے پیاس بجھانا چاہیں اور پانی سے گاڑی چلانے کی کوشش کریں تو یقینی طور پر آپ ناکام رہیں گے ۔ اس دنیا کو خدا نے مقابلہ کی دنیا بنایا ہے ۔ یہاں ہر ایک کو آزادی ہے ۔ اور ہر ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader