استحقاق نہ کہ مطالبہ
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی اپنی محنت اور قابلیت سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ مقابلہ کا اصول خود خدا کا مقرر کیا ہوا ہے ، اس کو آپ ختم نہیں کر سکتے۔ آپ کے لیے ایک ہی راستہ ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ مقابلہ کے میدان میں اپنی اہلیت کا ثبوت دے کر اپنی جگہ حاصل کریں ۔ اگر آپ چاہیں کہ دنیا کا نظام مقابلہ کے بجائے مطالبہ کی بنیاد پر چلنے لگے تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ اگر آپ مطالبہ اور احتجاج کی بنیاد پر جینا چاہتے ہوں تو آپ کو خدا کی دنیا کے سوا کوئی دوسری دنیا بنانی پڑے گی ۔ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ موجودہ دنیا کو خدا نے امتحان گاہ بنایا ہے ۔ یہاں ہر شخص کو عمل کی آزادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ مختلف اشخاص اور مختلف قوموں کے درمیان مقابلہ جاری رہتا ہے مقابلہ اور مسابقت کی یہ فضا کبھی ختم نہیں ہو سکتی ۔ خواہ دنیا میں اسلامی حکومت ہو یا غیر اسلامی حکومت ۔ اب سوچنے کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک ہے حالات میں گھیر کر سوچنا اور دوسرا ہے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔ چونکہ یہ دنیا کبھی ناموافق اسباب سے خالی نہیں ہو سکتی اس لیے جو لوگ حالات میں گھیر کر سوچیں ان کی سوچ ہمیشہ شکایتی سوچ رہے گی ۔ ان کا فکر ردعمل کی نفسیات کے تحت بنے گا ۔ اپنی قوتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے وہ بے فائدہ طور پر دوسروں کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے اور بطور خود یہ سمجھیں گے کہ وہ کوئی کام کر رہے ہیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ حالات سے اوپر اٹھ کر سوچیں ان کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ قانون قدرت کے مطابق ہو رہا ہے نہ کہ ظلم اور تعصب کی بنا پر ہو رہا ہے ۔ یہ چیز انہیں حقیقت پسند بنا دیتی ہے ۔ ان کی سوچ مطابق واقعہ سوچ بن جاتی ہے ۔ وہ حالات کو مان کر اس کے ڈھانچے میں اپنی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔ وہ دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرنے کے بجائے اپنی محنت سے اپنے آپ کو کامیاب بنانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ۔ ہندوستان کے مسلمان " تعصب " کی اصطلاحوں میں سوچنے کے عادی ہو گئے ہیں ۔ اس لیے ان کی پوری سوچ ایسی ہو گئی ہے جیسے کہ کوئی بند کوٹھری میں سوچے ۔ اگر وہ " حقیقت پسندی " کی اصطلاح میں سوچنے لگیں تو اچانک وہ محسوس کریں گے کہ وہ ایک کھلی فضا میں پہنچ گئے ہیں پہلی صورت میں ان کو راہیں بند نظر آتی ہیں ۔ مگر دوسری صورت میں انہیں ہر طرف راہیں کھلی ہوئی نظر آنے لگیں گی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader