استحقاق نہ کہ مطالبہ
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مثال لیجئے ۔ مسلمانوں کو شکایت ہے کہ اردو زبان کے ساتھ اس ملک میں تعصب کیا جاتا ہے ۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو اردو کا مسئلہ خود اردو کی اپنی کمی کا مسئلہ ہے نہ کہ کسی خارجی تعصب کا مسئلہ ۔ اور وہ یہ کہ اردو زبان موجودہ زمانے میں اپنی اہمیت منوانے میں ناکام رہی ہے یہی وجہ ہے کہ جو مسلم لیڈر اردو زبان کا جھنڈا اٹھاتے ہیں وہ خود بھی اپنے بچوں کو انگلش اسکولوں میں تعلیم دلانا ضروری سمجھتے ہیں ۔ ستمبر ۱۹۵۹ء سے پہلے روسی زبان امریکہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ مگر اسی مہینہ یہ خبر چھپی کہ روس کا راکٹ (بیونک نمبر ۲) سات ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خلا میں سفر کر کے ۳۴ گھنٹہ میں چاند پر پہونچ گیا تو اچانک روسی زبان نے علمی دنیا میں زبردست اہمیت حاصل کرلی۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ روس خلائی ٹکنالوجی میں امریکہ سے آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ کے ماہرین شدت سے محسوس کرنے لگے کہ خلائی ٹکنالوجی میں ان کا مطالعہ اس وقت تک نامکمل ہے جب تک وہ اس موضوع پر روسی زبان میں لکھی ہوئی کتا بیں نہ پڑھ لیں۔ چنانچہ امریکہ میں ایک نیا ذہن شدت سے ابھراا۔ روسی زبان کے تمام سائنسی جرائد امریکہ میں منگائے جاتے لگے اور شروع سے آخر تک ان کا انگریزی ترجمہ کرکے انہیں امریکہ میں شائع کیا جانے لگا۔ آج روسی زبان کی تمام اہم سائنسی کتابیں انگریزی میں ترجمہ ہوکر یورپ اور امریکہ کی لائبریریوں کی زینت بنی ہوئی ہیں ۔ روسی زبان نے یہ اہمیت احتجاج اور مطالبہ کے ذریعہ حاصل نہیں کی بلکہ استحقاق کا ثبوت دے کر حاصل کی ہے ۔ یہی حال موجودہ زمانہ میں جاپانی زبان کا ہوا ہے ۔ بیسویں صدی کے نصف تک مغربی ملکوں میں جاپانی زبان کی کوئی اہمیت نہ تھی ۔ مگر آج جاپانی زبان میں چھپنے والی سائنسی کتابیں انگریزی زبان میں ترجمہ ہوکر زبردست مقبولیت حاصل کمر رہی ہیں۔ اس کی وجہ الیکٹرانکس میں جاپان کی ترقی ہے ۔ جدید مغربی علماء یہ محسوس کر رہے ہیں کہ الیکٹرانکس میں ان کا مطالعہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس موضوع پر جاپان میں ہونے والی تحقیقات کو نہ پڑھ لیں۔ جاپانی زبان نے اپنی اہمیت ثابت کر کے مغربی دنیا میں وہ مقام حاصل کر لیا جو اس سے پہلے اس کو حاصل نہ تھا ۔ اردو کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ذخیرہ میں یا تو شعر و شاعری ہے یا خطیبانہ انداز میں لکھی ہوئی کتابیں ۔ اور موجودہ سائنسی دور میں شاعری اور خطابت دونوں ہی اپنا وزن کھو چکے ۷ا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader