Urdu book · حل یہاں ہے

داعی اور مدعو

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

داعی اور مدعو قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں پر خدا کی طرف سے جو عذاب آتا ہے وہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک عذابِ مستاصل۔ دوسرے عذابِ تنبیہی۔ عذابِ مستاصل یعنی قوموں کو بالکل برباد کر دینے والا عذاب زلزلہ اور طوفان کے ذریعہ آتا ہے (العنکبوت ۴۰) اور عذابِ تنبیہی عام طور پر بندوں کے ذریعہ یعنی ایک قوم کو دوسری قوم پر چڑھا دینا اور اس طرح انسانوں کے ہاتھوں کہیں سزا دلانا (بنی اسرائیل ۵) قدیم زمانہ میں یہود پر جو عذاب آئے ان کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالانکہ یہ سب کے سب اس طرح آئے تھے کہ کوئی سرکش قوم یا کوئی ظالم حکمراں یہود کے اوپر مسلط ہو گیا ۔ اور وہ ان کی آبادیوں کو اور ان کے مقدس مقامات کو برباد کرتا رہا۔ تنبیہی سزا موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ جو صورتِ حال پیش آرہی ہے وہ اسی دوسری قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ یقینی طور پر تنبیہی عذاب ہے۔ مگر چوں کہ بظاہر وہ انسانوں کے ذریعہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے ، اس لئے مسلمان اس کو کسی قوم یا کسی حکمراں کی طرف منسوب کرکے اس کو انسانی ظلم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ جو واقعہ خدا کی طرف سے پیش آرہا ہے اس کو انسانی واقعہ ثابت کرنے میں مشغول ہیں۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف غلط ہے بلکہ وہ مسئلہ کو حل کرنے میں مزید رکاوٹ ہے۔ اس کی وجہ سے تمام مسلم قائدین کی ساری توجہ ” ظالموں “ کے خلاف چیخ پکار میں لگی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ان کا سبب خدائی فریضہ سے غفلت میں ہے تو خدائی فریضہ کی ادائیگی ہی سے ان کا خاتمہ ہوگا نہ کہ مفروضہ ظالموں کے خلاف شور وغل کرنے سے۔ مسلمانوں کا مسئلہ اس وقت ساری دنیا میں صرف ایک ہے ـــــــــ ان کو ان کی مدعو اقوام کے ہاتھوں ستایا جارہا ہے۔ گویا کہ وہ زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ تم ہماری آخرت کو برباد کر رہے ہو تو ہم تمھاری دنیا کو برباد کریں گے ۔ یہ یقینی طور پر مسلمانوں کی دعوتی غفلت کے نتیجہ میں ہو رہا ہے۔ دوبارہ اس صورتِ حال کا خاتمہ صرف اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان اپنی دعوتی غفلت کو ختم کریں۔ وہ اقوامِ عالم کے سامنے خدا کے دین کے داعی بن کر کھڑے ہوں۔ جب تک وہ ایسا نہ کریں گے کوئی بھی دوسری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page