Urdu book · حل یہاں ہے

وقت نہیں

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

من قرنہ فجعلا يا كل منهن ثم قال لئن کے رسول ، صرف اس امید میں کہ شاید میں بھی انا حبیت حتی اکُل تمراتی ھذہ انھا لحیاۃ اہل جنت میں سے ہو جاؤں ۔ آپ نے کہا کہ تم انھیں ہیں طويلة فر ہی بما كان معه من التمر ثم سے ہو ۔ اب حضرت عمیر نے اپنی نیام سے کچھ کھجوریں قاتلھم حتی قتل (رواہ مسلم) نکالیں اور ان میں سے کھانے لگے ۔ پھر انھوں نے کہا کہ اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ نہ رہوں تو یہ بہت لمبی زندگی ہوگی ۔ انھوں نے اپنی بقیہ کھجوریں پھینک دیں اور لڑائی میں کود پڑے ، یہاں تک کہ قتل کر دیئے گئے ۔ جو شخص دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہو اس کے پاس غیر متعلق چیزوں میں الجھنے کا وقت نہیں ہوتا اسی طرح جو شخص آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو وہ ایسی چیزوں میں الجھنا کبھی پسند نہیں کرے گا جو اس کو آخرت کے نشانہ سے دور کر دے “ در ملی “ سے امرسر جانے والا گلکت کے رخ پر سفر نہیں کرتا ۔ اسی طرح آخرت کا مسافر کبھی ان سمتوں میں نہیں دوڑے گا جو اس کو آخرت کی منزل سے دور کر دینے والی ہو۔ مسلمان اگر اپنے آپ کو دنیا کا مسافر سمجھیں تو ان کے لیے مذکورہ ہندوستانی نوجوان کے واقعہ میں نصیحت ہے۔ اور اگر وہ اپنے آپ کو آخرت کا مسافر سمجھیں تو مذکورہ صحابی کے واقعہ میں نصیحت ہے اگر مسلمانوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ نہ پہلے طریقہ پر عمل کریں اور نہ دوسرے طریقے پر تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ دنیا کے مسافر ہیں اور نہ آخرت کے مسافر۔ وہ بھٹکے ہوئے اونٹ ہیں جس کی کوئی منزل نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page