احادیث
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
شخص اللہ کے لیے حج کرے پھر وہ نہ کوئی فحش بات کرے اور نہ کوئی گناہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے کہ وہ اس دن تھا جب کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءُ إِلَّا الْجَنَّةُ ( صحيح البخاري، حديث نمبر 1773 ؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 1349 ) ۔ یعنی ، ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا صرف جنت ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ . قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : حَجٌّ مَبْرُورُ ( صحيح البخاري ، حديث نمبر 26 ؛ صحيح مسلم ، حديث نمبر 83 ) ۔ یعنی ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ پر اور رسول پر ایمان ۔ پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں جہاد ۔ پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا ۔ فرمایا کہ حج مبرور (یعنی وہ حج جس کے ساتھ گناہ شامل نہ ہو ) ۔ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةُ الْغَازِي وَالْحَاجُ وَالْمُعْتَمِرُ ( سنن النسائی ، حدیث نمبر 2624 ) ۔ یعنی، حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ کے وفد تین ہیں: غازی اور حاجی اور عمرہ کرنے والا۔ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader