حقیقت حج
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
انھیں دیے ہیں۔ پس تم اس میں سے کھاؤ اور محتاجوں کو کھلاؤ۔ پھر چاہیے کہ وہ اپنا میل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں۔ اَلْحَجّٗ أَشْهُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُوْنِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (2:197) ۔ یعنی، حج کے متعین مہینے ہیں۔ پس جس نے حج کا عزم کر لیا تو پھر اس کو حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے اور نہ گناہ کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی۔ اور جو نیک کام تم کرو گے اللہ اس کو جان لے گا اور تم زادِ راہ لو۔ بہتر زادِ راہ تقویٰ کا زادِ راہ ہے اور اے عقل والو، مجھ سے ڈرو۔ احادیث بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 8؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 16) ۔ یعنی، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔ اَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَحُجُّوا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 3236) ۔ یعنی، اے لوگو، اللہ نے تمہارے اوپر حج فرض کیا ہے تو تم حج کرو۔ مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1521؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1350) ۔ یعنی، جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader