Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

کئی آدمی ایسے نظر پڑے جن کے ہاتھ یا پاؤں میں پلاستر بندھا ہوا تھا۔ ایک منظر یہ دیکھنے کو ملا کہ رمی کے وقت ایک حاجی گر پڑا اور حاجیوں کے قدموں کے نیچے کچل کر ختم ہو گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات ہر سال ہوتے رہتے ہیں۔ کیسا عجیب ہے وہ حج جس میں انسان دشمن کی ایک علامت کو مارنے کے جوش میں خود انسان کو مار ڈالا جائے۔“ تجدیدِ ایمان ”حج ایک قسم کا تجدیدِ ایمان ہے۔ حج سے پہلے کا ایمان گویا ایک موقّت ایمان ہے۔ اس کے بعد مومن جب مکہ پہنچتا ہے اور لبیک لبیک کہہ کر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے تو گویا وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے۔ وہ براہ راست خدا سے ”بیعت“ ہوتا ہے۔ حج کے بعد گناہوں کی معافی عین اس قانون کے تحت ہے جو قبولیت اسلام سے متعلق ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آدمی کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کے ساتھ یہ معاملہ ایمان اوّل کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ اور ایمان ثانی کے بعد گویا اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ ایمان اوّل اگر بالواسطہ ایمان تھا تو ایمان ثانی براہ راست ایمان ہے۔ معذوری کی حالت میں ایمان اوّل ہی خدا کی رحمت سے آدمی کے گناہوں کی معافی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ مگر صاحب استطاعت کے لیے ایمان ثانی کے بعد اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی حج ادا کیے بغیر مر جائے تو خدا کو اس کی پروا نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرا یا نصرانی ہو کر مرا: مَنْ مَلَکَ زَاداً وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا، (سنن الترمذی، حدیث نمبر 812)۔ اسلام کا خلاصہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ حج میں یہ حوالہ گی پوری طرح عمل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page