Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

حج اور اتحاد حج کا ایک پہلو اسلامی اتحاد ہے۔ حج کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان ایک مقام پر اکٹھا ہوتے ہیں اور ایک ساتھ حج کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ حج مسلمانوں کا عالمی دینی اجتماع ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی چند آیتوں پر غور کیجئے: • وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنَا (125: 2)۔ یعنی، اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے اجتماع کی جگہ اور امن کا مقام بنا دیا۔ • إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ (3:96)۔ یعنی، بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور سارے جہاں کے لیے ہدایت کا مرکز۔ • جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ (597)۔ یعنی، اللہ نے کعبہ، حرمت والے گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔ • فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ (14:37)۔ یعنی، پس اے اللہ، تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے۔ • وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (27: 22)۔ یعنی، اور تم لوگوں میں حج کے لیے پکار دو کہ وہ تمہاری طرف آئیں پیدل چل کر اور سوار ہو کر، وہ دُبلے اونٹوں پر چلے آئیں دور کی راہوں سے۔ توحید کا عالمی مرکز قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے ذریعہ حجاز میں کعبہ کی تعمیر خاص طور پر اس لیے کی گئی تھی کہ وہ اہلِ توحید کا مرکز بنے۔ قریب کے لوگ بھی آئیں اور دور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page