Urdu book · حقیقت حج

توحید کا عالمی مرکز

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لوگ بھی سواریوں کے ذریعہ وہاں پہنچیں۔ کعبہ کے گرد ایسے تاریخی اسباب پیدا کیے گئے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف کھنچیں۔ اور ہر طرف سے لوگ امڈ کر وہاں پہنچیں۔ بیت اللہ قیامت تک کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا عالمی اسلامی مرکز ہے۔ وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا بین الاقوامی اجتماع گاہ ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں سے پکار کر کہو کہ وہ سفر کر کے اس گھر کے حج کے لیے آئیں: قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أُبْلِغُ النَّاسَ وَصَوْتِي لَا يَنْفُذُهُمْ فَقَالَ نَادِ وَعَلَيْنَا الْبَلَاغَ فَقَامَ عَلَى مَقَامِهِ وَقِيلَ عَلَى الْحَجَرِ وَقِيلَ عَلَى الصَّفَا وَقِيلَ عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ وَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمْ قَدْ اتَّخَذَ بَيْتًا فَحُجُّوهُ فَيُقَالِ إِنَّ الْجِبَالَ تَوَاضَعَتْ حَتَّى بَلَغَ الصَّوْتَ أَرْجَاءَ الْأَرْضِ وَأَسْمَعَ مَنْ فِي الْأَرْحَامِ وَالْأَصْلَابِ وَأَجَابَهُ كُلُّ شَيْءٍ سَمِعَهُ مِنْ حَجَرٍ وَمَدَرٍ وَشَجَرٍ وَمَنْ كَتَبَ اللَّهُ أَنَّهُ يَحُجُّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 414)۔ یعنی، حضرت ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب کیسے میں لوگوں کو پکاروں اور میری آواز ان تک نہیں پہنچے گی۔ اللہ نے کہا تم پکارو اور ہمارے اوپر ہے پہنچانا۔ پس حضرت ابراہیم پتھر پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ اے لوگو، تمہارے رب نے ایک گھر مقرر کیا ہے، تم اس کا حج کرو۔ پس کہا جاتا ہے کہ پہاڑ جھک گئے یہاں تک کہ آواز زمین کے کناروں تک پہنچ گئی اور انھوں نے بھی سن لیا جو رحم میں تھے۔ اور پتھر اور خیمہ اور درخت اور جس پر قیامت تک اللہ نے لکھ دیا تھا کہ وہ حج کرے گا سب نے سنا اور یہ کہا: ہم حاضر ہیں، خدایا، ہم حاضر ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابراہیم نے جس وقت پکارا، عین اسی وقت حال اور مستقبل کے تمام لوگوں نے آپ کی آواز کو سن لیا۔ حضرت ابراہیم کی پکار علامتی پکار تھی۔ بے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page