حقیقت حج
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
شک تمام لوگوں نے اس کو سنا۔ مگر یہ سننا اس وقت بالقوہ طور پر تھا، نہ کہ بالفعل طور پر۔ حضرت ابراہیم کی پکار در اصل ایک مسلسل واقع کا آغاز تھا۔ آپ نے اپنے وقت میں پکارا۔ آپ کے بعد دوسرے لوگوں نے آپ کی آواز کو لے کر اسے دوسروں کو سنایا۔ پھر اسی طرح لوگ نسل در نسل پکارتے رہے۔ پریس اور ریڈیو کا دور آیا تو پریس اور ریڈیو کے ذریعہ یہ پکار مزید تیزی کے ساتھ شروع ہوئے۔ وہ پہاڑوں اور سمندروں کو پار کر کے دور دور تک پہنچ گئی۔ یہاں تک کہ اس کا اندیشہ ختم ہو گیا کہ کوئی شخص بھی اس پیغمبرانہ پکار کو سننے سے خالی رہ جائے۔ عمومی اعلان حج اجتماعی امور کے اعلان کا فطری مقام ہے۔ چنانچہ اسلام کے اہم ترین امور کا اعلان حج کے موقع پر کیا گیا۔ اس کی ایک مثال اعلان برآئت ہے جو سورہ التوبہ کے اترنے کے بعد کیا گیا۔ مکہ رمضان 8 ھ میں فتح ہوا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں تین حج پڑے ہیں۔ ابتدائی دو حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے۔ آپ نے صرف 10 ھ میں حج ادا فرمایا جو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ کی وفات ہوگئی۔ 9 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق کو امیر الحجاج مقرر فرمایا اور ان کے ساتھ دوسرے صحابہ حج کے ارادے سے مکہ روانہ ہوئے۔ حضرت ابو بکر کی روانگی کے بعد سورہ التوبہ کا ابتدائی حصہ نازل ہوا جس میں یہ حکم تھا کہ اس بات کا اعلان کر دو کہ اللہ اور رسول مشرکین سے بری ہیں۔ اور اب آخری فیصلہ کے لیے انھیں صرف چار مہینے کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں روایات میں آتا ہے: لَمَّا نُزِّلَتْ بَرَاءَةٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ بَعَثَ أَبَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader