عمومی اعلان
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
بَكْرٍ لِيُقِيمَ الْحَجَّ لِلنَّاسِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: لَوْ بَعَثْتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ "لَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي" ثُمَّ دَعَا عَلِيًّا فَقَالَ اِذْهَبْ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ مِنْ سُورَةِ بَرَاءَةَ وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ إِذَا اجْتَمَعُوا بِمِنَى أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ كَافِرٌ وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ “ (تفسیر الطبری، جلد 14، صفحہ 108)۔ یعنی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیاتِ براء ت اتری اس وقت آپ حضرت ابوبکر کو بھیج چکے تھے کہ وہ لوگوں کو حج ادا کرائیں، اس وقت کہا گیا کہ اے خدا کے رسول، آپ اس کو ابو بکر کے پاس بھیج دیں۔ آپ نے فرمایا کہ میری طرف سے صرف میرے گھر کا کوئی آدمی اس کو انجام دے سکتا ہے، پھر آپ نے حضرت علی کو بلایا اور کہا کہ سورہ البراءۃ کے اس حکم کو لے کر جاؤ اور یوم النحر کو جب لوگ منیٰ میں جمع ہوں تو ان کے درمیان اعلان کر دو کہ کافر جنت میں نہیں جائے گا۔ اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی شخص عریاں ہو کر کعبہ کا طواف نہیں کرنے پائے گا۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا اور مجمع عام میں گھوم گھوم کر با آواز بلند اس کا اعلان کرتا رہا کہ یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی: قَالَ فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي (مسند احمد، حدیث نمبر 7977)۔ مشرکین عرب سے براء ت کا حکم مدینہ میں اترا مگر اس کا اعلان مکہ میں موسم حج میں کیا گیا یہ واضح طور پر اس کا ثبوت ہے کہ اسلام کے تمام اہم فیصلوں کے اعلان کا اصل مقام مکہ اور زمانہ حج ہے۔ حج تمام دنیا کے مسلمانوں کا اجتماعی مرکز ہے۔ یہیں ان کو جمع ہونا ہے۔ یہیں انھیں اپنے بڑے بڑے فیصلوں کا اعلان کرنا ہے۔ اور یہیں سے وہ عالمی منصوبہ بندی کرنی ہے جو خدا اور رسول کے حکم کے مطابق ان کے لیے ضروری ہو۔ اس سلسلہ میں دوسری نمایاں مثال حجۃ الوداع کے خطبہ کی ہے۔ یہ آپ کا اہم ترین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader