Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

خطبہ ہے۔ آپ اپنی وفات سے پہلے آخری طور پر لوگوں کو بتا دینا چاہتے تھے کہ دین کے بنیادی تقاضے کیا ہیں۔ مگر ان کا اعلان آپ نے کہیں اور نہیں کیا بلکہ اس کو موخر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ 10ھ میں حج کے موقع پر ان کا اعلان فرمایا۔ چنانچہ خطبہ کے شروع میں یہ الفاظ آئے ہیں: أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا قَوْلِي، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا بِهَذَا الْمَوْقِفِ أَبَدًا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 603)۔ یعنی، اے لوگو، میری بات سنو، کیونکہ میں نہیں جانتا، شاید میں اس سال کے بعد تم سے اس مقام پر کبھی نہ ملوں۔ اس کے بعد آپ نے تمام بنیادی باتیں لوگوں کو بتائیں اور آخر میں فرمایا: أَلَا هَلْ بَلَغْتُ، أَلَا هَلْ بَلَغْتُ (کیا میں نے پہنچا دیا، کیا میں نے پہنچا دیا)۔ لوگوں نے گواہی دی کہ ہاں، آپ نے پہنچا دیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 105 و 1741)۔ فتح مکہ (8ھ) کے بعد پورا عرب آپ کے لیے مسخر ہو چکا تھا۔ آپ عرب کے کسی بھی مقام پر پہنچ کر یہ اعلان کر سکتے تھے۔ اس وقت مدینہ اسلام کا سیاسی مرکز تھا۔ آپ یہ بھی کر سکتے تھے کہ لوگوں کو مدینہ میں بلائیں اور وہاں لوگوں کے سامنے ان باتوں کا اعلان کریں جن کا اعلان آپ نے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمایا، مگر آپ نے ان میں سے کوئی طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ بلکہ حج کا انتظار کیا اور حج کے موقع پر مکہ پہنچ کر ان کا اعلان کیا۔ آپ کی یہ سنت اس کا واضح ثبوت ہے کہ حج اسلام کی تمام اہم باتوں کا مقامِ اعلان ہے۔ فطری انداز اس اہتمام کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام ہمیشہ سادہ اور فطری طریقہ کو پسند کرتا ہے۔ مثلاً حج کے اعمال میں سے ایک عمل یہ ہے کہ صفا اور مروہ (پہاڑیوں) کے درمیان سعی کی جائے۔ اس سلسلہ میں ایک سوال ترتیب کا تھا۔ یعنی یہ کہ سعی کا عمل صفا کی طرف سے شروع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page