Urdu book · حقیقت حج

مزید اہتمام

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

عرب کے ساتھ بہت سی عظیم دینی روایاتیں وابستہ ہیں۔ اس بنا پر حج کے مراسم کی ادائیکی کے لیے عرب کا جغرافیہ سب سے زیادہ موزوں جغرافیہ ہے۔ یہاں کعبہ ہے جس کے بارے میں ہزاروں سال سے تقدس کی روایاتیں قائم ہوچکی ہیں۔ یہاں پیغمبروں کی قربانی کی داستانیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں خدا کے نیک بندوں پر خدا کے انعامات کی یادگاریں ہیں۔ یہ وہ زمین ہے جہاں خدا کے آخری رسول اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں کے نشانات ثبت ہیں۔ اس قسم کی تاریخی نسبتوں نے حج کے مقامات کے ساتھ غیر معمولی تقدس اور احترام کی فضا وابستہ کردی ہے۔ یہاں کے ماحول میں پہنچتے ہی آدمی کے ذہن میں ایک پوری دینی تاریخ جاگ اٹھتی ہے۔ یہاں بالکل قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی دینی حس میں اضافہ ہو جائے ۔ وہ زیادہ سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ خدا کے مقرر کیے ہوئے فرائض کو ادا کرنے لگے۔ اسی مخصوص تاریخی اہمیت کی بنا پر اس علاقہ کو خدا نے اس کے لیے چنا کہ یہاں اسلامی زندگی کے بارے میں ایک علامتی مشق (ریہر سل) کرائی جائے، اور پھر آدمی کو دوبارہ اس کے سابقہ ماحول میں واپس پہنچا دیا جائے، تاکہ وہ زیادہ بہتر طور پر خدا پرستانہ زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے۔ حج کے زمانہ میں مخصوص مراسم کی ادائیکی کے دوران حاجی کے لیے جو چیزیں منع ہیں ان میں سے تین خاص چیزوں کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔ 1۔ زبان سے کسی شخص کو کوئی تکلیف نہ پہنچانا۔ 2۔ کسی جانور کو نہ مارنا اور نہ اس کو زخمی کرنا۔ 3۔ لذت اور آرائش کی چیزوں سے پرہیز۔ مثلاً ناخن کاٹنا، بال سنوارنا، سلا ہوا کپڑا پہننا، خوشبو لگانا، ازدواجی تعلقات وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page