کلام میں احتیاط
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
کلام میں احتیاط مل جل کر رہنے میں لوگوں کو ایک دوسرے کی جس چیز سے سب سے زیادہ سابقہ پیش آتا ہے وہ زبان ہے۔ ایک شخص کو دوسرے شخص سے سب سے زیادہ تکلیف زبان ہی سے پہنچتی ہے۔ حج کے زمانہ میں بیک وقت بہت سے لوگوں کا ساتھ ہو جانے کی وجہ سے بار بار یہ موقع آتا ہے کہ آدمی کی زبان بے قابو ہو جائے اور ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان کو ٹھیس پہنچے۔ چنانچہ حج کے موسم کو خصوصیت سے کلام میں احتیاط کی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ زبان سے کسی کو تکلیف پہنچانا عام دنوں میں اسلامی اخلاقیات کا ایک جزء ہے۔ مگر حج کے دنوں میں اس کو اسلامی عبادات کا لازمی جزء بنا دیا گیا تا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اہتمام کرکے اپنے آپ کو اس سماجی برائی سے بچائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حج اس طرح ادا کرے کہ انسان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہیں تو اس کے اب تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے (تاریخ دمشق، جلد 29، صفحہ 362)۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: حج کے چند معلوم مہینے (شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ) ہیں ۔ جو شخص ان مہینوں میں اپنے اوپر حج مقرر کرے تو پھر حج میں نہ کوئی فحش بات ہو اور نہ بد کلامی اور نہ جھگڑا اور نہ تکرار کیا جائے (2:197)۔ زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی یہی تین خاص صورتیں ہیں۔ آدمی فحش باتیں اپنی زبان سے نکالتا ہے جو دوسروں کے لیے دل خراشی کا باعث ہوتی ہیں۔ وہ دوسرے کو برے الفاظ سے یاد کرتا ہے اور اس کے بارے میں نازیبا کلمات بول کر اس کو بے آبرو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بات چیت کے دوران تکرار اور سخت کلامی پر اتر آتا ہے۔ یہ تمام چیزیں حج میں بالکل حرام کردی گئیں ۔ تاکہ ان
ل شوال کے غرۃ (پہلی تاریخ) سے لے کر بقر عید کی صبح، یعنی ذی الحجہ کی دسویں رات تک۔ یہ اشہر حج (حج کے مہینے) ہیں۔ ان کو اشہر حج اس لیے کہا جاتا ہے کہ حج کا احرام ان کے اندر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس سے پہلے حج کا احرام باندھے تو وہ صحیح نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader