احادیث
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
عن ابنِ عمر، قال: قام رجلٌ إلى النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: من الحاجُّ یا رسولَ الله؟ قال: ”الشَّعثُ التَّفِلُ“ فقام رجلٌ آخر، فقال: أيُّ الحجّ أفضلُ یا رسولَ الله؟ قال: ”العَجُّ والثَّجُّ“. فقام رجلٌ آخر، فقال: ما السَّبيلُ یا رسولَ الله؟ قال: ”الزَّادُ والرَّاحلةُ“ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3243)_ یعنی، حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، حاجی کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پراگندہ بال اور بودار۔ ایک دوسرا شخص اٹھا اور کہا کہ کون سا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا، با آواز بلند لبیک کہنا اور جانور قربان کرنا۔ پھر ایک اور شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ پھر ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ اس کی سبیل کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ زاد سفر اور سواری۔ عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا ثُمَّ مَاتَ فِي طَرِيقِهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ الْغَازِي وَالْحَاجِّ وَالْمُعْتَمِرِ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 3806)_ یعنی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کے ارادے سے نکلے پھر وہ راستہ میں مر جائے تو اللہ اس کے لیے غازی اور حاجی اور عمرہ کرنے والے کا اجر لکھ دے گا۔ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2875)_ یعنی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ عورتوں کا جہاد حج ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader