احادیث
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ، وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ، فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى (صحيح البخاری، حدیث نمبر 1523)۔ یعنی، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یمن کے لوگ حج کرتے تھے اور زادِ سفر نہیں لیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم متوکل ہیں۔ جب وہ مکہ آتے تو لوگوں سے سوال کرتے۔ چنانچہ اللہ نے یہ آیت (2:197) اتاری کہ ”تم لوگ زادِ راہ لے لیا کرو۔ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے“۔ • إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ؛ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عز وجل (سنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 9646)۔ یعنی، کعبہ کا طواف کرنا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا اور جمعرات پر کنکریاں مارنا یہ سب صرف اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ • الْحَجُّ مَرَّةً، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 2642)۔ یعنی، حج زندگی میں ایک بار ہے، پھر جو زیادہ کرے تو وہ تطوع (نفل) ہے۔ • مَنْ قَدَرَ عَلَى الْحَجِّ فَلَمْ يَحُجَّ، فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا (المغنی لابن قدامہ، جلد 14، صفحہ 170)۔ یعنی، جو شخص حج کرنے پر قادر ہو پھر بھی وہ حج نہ کرے تو چاہیے کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر مرے۔ • عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَى النِّسَاءِ مِنْ جِهَادٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ (مسند احمد، حدیث نمبر 25322)۔ یعنی، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کیا عورتوں پر جہاد ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ان پر ایسا جہاد ہے جس میں قتال نہیں۔ وہ ہے حج اور عمرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader