Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بارے میں آدمی کی حساسیت بڑھ جائے اور جب وہ حج کے مقدس سفر سے لوٹے تو اس کے اثر سے اس کی زبان ہمیشہ کے لیے ان چیزوں سے محفوظ ہو چکی ہو۔ جارحیت سے پرہیز حج کے لیے احرام باندھنے کے بعد خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حاجی کے لیے حرام ہے۔ یہاں تک کہ شکار کیے ہوئے جانور کا گوشت بطور ہدیہ قبول کرنا، پرندہ کا پر اکھاڑنا، شکار میں مدد دینا، شکار کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے چھری دینا، وغیرہ سب حاجی کے لیے حرام ہیں۔ حج کے دوران میں حاجی کسی موذی جانور مثلاً سانپ کو مار سکتا ہے۔ یا وہ قربانی کے جانور کو ذبح کرتا ہے جو حج کے مراسم کا ایک جزء ہے۔ اس کے علاوہ کسی جانور کو مارنا یا اسے تکلیف دینا حاجی کے لیے حرام ہے۔ جانور کا شکار عام حالات میں بالکل جائز ہے مگر حج کے دوران ان کا شکار کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ دراصل ایک شرعی حکم پر مبالغہ کے ساتھ عمل کرانا ہے۔ آدمی پر یہ فرض ہے کہ وہ انسان کو نہ مارے، وہ کسی جاندار کو نہ ستائے۔ یہ شریعت کا ایک عام حکم ہے جو ہر آدمی سے ہر حال میں مطلوب ہے مگر حج کے دوران اس کو شکار کے جانوروں تک وسیع کرکے اس حکم کے بارے میں آدمی کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے تا کہ حج سے واپسی کے بعد وہ زیادہ اہتمام کے ساتھ اس کی تعمیل کر سکے۔ وہ بقیہ دنوں میں بھی لوگوں کے درمیان غیر جارح (no problem) انسان بن کر رہے۔ پابند زندگی اسلامی زندگی کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھ کر زندگی گزاری جائے۔ حج کے سفر کو اس قسم کی پابند زندگی کے لیے خصوصی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ حج کی یہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے۔ جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page