مسائل حج
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
8 ذی الحجہ کی صبح کو اس کے بعد منیٰ کے لیے روانہ ہونا ہے۔ دوپہر سے پہلے وہاں پہنچ جائیں تا کہ وہاں ظہر کی نماز ادا کر سکیں ۔ منیٰ میں مجموعی طور پر پانچ دن قیام کرنا ہے۔ منیٰ میں پہلے 8 ذی الحجہ کی ظہر سے 9 ذی الحجہ کی فجر تک پانچ نمازیں حتی الامکان مسجد خیف میں پڑھی جاتی ہیں ۔ 9 ذی الحجہ کو یہاں سے عرفات جانا ہے اور وہاں ٹھہرنا ہے۔ یہ وقوف عرفہ ہی حج کا رکنِ اعظم ہے۔ یہاں ظہر اور عصر کی نماز اکٹھا پڑھی جاتی ہے۔ عرفات سے 9 ذی الحجہ کو واپس آ کر رات کو مزدلفہ میں ٹھہرنا ہے۔ پھر 10 ذی الحجہ کو طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے چل کر دوبارہ منیٰ آنا ہے۔ اس تمام دوران میں تلبیہ اور دعائیں جاری رہنا چاہیے۔ ایک دعا یہ ہے: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۔ یعنی، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کے لیے ہے۔ وہ زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ غروب آفتاب تک میدانِ عرفات میں رہنا مسنون ہے۔ 10 ذی الحجہ کو مغرب کی نماز میدانِ عرفات میں پڑھے بغیر مزدلفہ جانا ہے۔ مزدلفہ میں رات کو مغرب اور عشا کی نماز ملا کر پڑھنا ہے۔ اس سفر میں وادی محسّر کے سوا ہر جگہ ٹھہرنا ہے۔ 10 ذی الحجہ کو پھر منیٰ آنا ہے۔ مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان تین مقامات ہیں جن کو جمرۃ الاولیٰ، جمرۃ الوسطیٰ اور جمرۃ العقبہ کہتے ہیں ۔ ان مقامات پر مختلف اوقات میں تین بار سات سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ رمی کے بعد منیٰ میں قربانی کریں۔ قربانی کے بعد حلق یا تقصیر (سر کے بال پورے منڈانا یا ترشوانا) ہے۔ اس کے بعد غسل کر کے معمول کے مطابق کپڑے پہن لیں۔ قربانی کے لیے مذبح جانا پڑتا ہے۔ قافلہ کے دو تین افراد وکیل بن کر سب کی طرف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader