Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

قربانی کرسکتے ہیں۔ ہر حاجی کو مذبح جاننا ضروری نہیں۔ حجامت کے بعد احرام کی پابندیاں بجز رفت کے اٹھ جاتی ہیں۔ اب حاجی کو طواف زیارت کرنا ہے۔ 10 تاریخ کو ان سے فارغ ہو کر غروب آفتاب سے پہلے اگر طواف زیارت کے لیے مکہ جا کر واپس آسکتے ہوں تو بہتر ہے۔ ورنہ 12 تاریخ کو غروب آفتاب تک یہ طواف کیا جا سکتا ہے۔ طواف زیارت کے وقت زیادہ سے زیادہ ذکر اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ طواف زیارت کے بعد پھر منیٰ واپس آنا ہے اور گیارہ اور بارہ دونوں تاریخوں میں جمرہ کی رمی کرنا ہے۔ کنکریاں مارتے ہوئے یہ کہنا چاہیے: رَجْمًا لِّلشَّیْطَانِ وَرِضاً لِلرَّحْمٰنِ (شیطان کو مارنے کے لیے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے)۔ منیٰ واپس آ کر رمی کرتے وقت پہلے چھوٹے شیطان، پھر درمیان والے شیطان اور پھر بڑے شیطان پر کنکریاں ماریں۔ یہی مسنون طریقہ ہے۔ مزدلفہ سے واپسی پر تین راتیں منیٰ میں گزارنا سنت ہے۔ دو رات گزار کر 12 ذی الحجہ کو غروب سے پہلے منیٰ سے جاسکتے ہیں۔ اب آپ حاجی ہو گئے۔ اس کے بعد جتنے دن مکہ میں قیام ہو، روزانہ کعبہ کا طواف اور دعا کیجئے اور روانگی کے دن طواف وداع کرکے یہاں سے واپس جائیں۔ مدینہ کی حاضری مدینہ جانا، مسجد نبوی میں نماز پڑھنا اور روضۂ رسول پر درود پڑھنا اگرچہ حج کے ارکان وہ فرائض میں داخل نہیں۔ تاہم اس کا بہت ثواب ہے اور حاجی کو ضرور وہاں بھی حاضری دینا چاہیے۔ حاجی کو چاہیے کہ طواف وداع کے بعد مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہو۔ مدینہ کے سفر میں زبان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ سے زیادہ صلوٰۃ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page