احادیث
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ لَمْ يَحْجُجْ، أَيَسْتَقْرِضُ لِلْحَجِّ؟ قَالَ: لَا (مسند الشافعي، حدیث نمبر 745)۔ یعنی، حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے حج نہیں کیا ہے، کیا وہ حج کے لیے قرض لے سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا، نہیں۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ حَاجَّا بِنَفَقَةٍ طَيِّبَةٍ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَنَادَى: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، زَادُكَ حَلَالٌ، وَرَاحِلَتُكَ حَلَالٌ، وَحَجُّكَ مَبْرُورٌ غَيْرُ مَأْزُورِ، وَإِذَا خَرَجَ بِالنَّفَقَةِ الْخَبِيثَةِ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَنَادَى: لَبَّيْكَ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: لَا لَبَّيْكَ وَلَا سَعْدَيْكَ، زَادُكَ حَرَامٌ وَنَفَقَتُكَ حَرَامٌ، وَحَجُّكَ غَيْرُ مَبْرُورٍ (المعجم الاوسط، حدیث نمبر 5228)۔ یعنی، جب آدمی پاک مال کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے اور اپنا پاؤں رکاب میں رکھتا ہے تو وہ کہتا ہے: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، اس وقت آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ لبیک، خوش آمدید، تمہارا زادِ سفر حلال اور تمہاری سواری حلال ہے اور تمہارا حج مبرور ہے۔ اس میں گناہ شامل نہیں۔ اور جب آدمی ناپاک مال کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے اور وہ اپنا پاؤں رکاب میں رکھتا ہے اور کہتا ہے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ۔ اس وقت آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ نہ لبیک اور نہ خوش آمدید۔ تمہارا زادِ سفر حرام ہے۔ تمہارا مال حرام ہے اور تمہارا حج غیر مبرور ہے۔ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تُحِبُّ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader