Urdu book · حقیقت حج

رسول اللہ کا حج

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ کا حج حج کی عبادت کا نظام حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے قائم فرمایا تھا۔ اس کے بعد اگرچہ اس نظام میں بہت سے بگاڑ پیدا ہوئے، تاہم اس کا رواج برابر باقی رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں پیدا ہوئے تو حج جاہلی رسوم کی آمیزش کے باوجود پوری طرح زندہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج ادا فرمایا۔ تاریخی اعتبار سے اس سوال کے دو حصے ہیں۔ ایک ہجرت سے پہلے۔ دوسرا ہجرت کے بعد۔ ثانی الذکر حصہ کے بارے میں ہم کو مکمل معلومات حاصل ہیں۔ مگر جہاں تک اول الذکر حصہ کا معاملہ ہے اس کی بابت قطعی معلومات حاصل نہیں۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک بار حج کا فریضہ ادا کیا جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ ہجرت سے پہلے آپ مکہ میں مقیم تھے۔ روایات سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کے زمانہ قیام میں بھی آپ نے حج کا فریضہ ادا کیا۔ مگر اس کی قطعی تفصیل نہیں ملتی۔ سنن الترمذی (حدیث نمبر 826) اور ابن ماجہ (حدیث نمبر 3076) میں ہے کہ آپ نے ہجرت سے پہلے دو حج ادا کیے۔ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1253) میں صرف ایک حج کا ذکر موجود ہے۔ بعض محدثین کا قول ہے کہ آپ اہل مکہ کی عادت کے مطابق ہر سال حج ادا کرتے تھے۔ طبقات ابن سعد (جلد 2، صفحہ 157) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کے بعد آپ نے ایک حج کے سوا اور کوئی حج ادا نہیں کیا۔ ایک طرف ہجرت سے قبل حج کے بارے میں اتنی کم معلومات ہیں اور دوسری طرف حجۃ الوداع کے بارے میں اتنی تفصیلی روایات ملتی ہیں کہ اس کے متعلق اول سے آخر تک مکمل ڈائری مرتب کی جاسکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page