Urdu book · حقیقت حج

رسول اللہ کا حج

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ زمانہ کا فرق ہے۔ ہجرت سے پہلے آپ کی حیثیت ایک ناقابل ذکر شخصیت کی تھی۔ لوگوں کی نظر میں آپ کو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ مگر حجۃ الوداع آپ کی آخری عمر میں اس وقت پیش آیا جب کہ آپ کی حیثیت عرب کے فاتح کی ہو چکی تھی۔ آپ کی زندگی کے دو دوروں کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر آپ کے ابتدائی حج کے واقعات کو تاریخ نے باقاعدہ ریکارڈ نہیں کیا۔ اور آپ کے آخری حج کو تاریخ نے اتنی تفصیل کے ساتھ ریکارڈ کیا کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا جز ء بھی غیر مذکور نہیں۔ روایات کے ذخیرہ میں حجۃ الوداع کی جو تفصیلات بکھری ہوئی ہیں ان کو بعض مولفین نے یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں چند کتابوں کے نام یہ ہیں: السیرۃ النبویہ امام ابو الفداء اسماعیل بن کثیر زاد المعاد علامہ شمس الدین ابن قیم الجوزیہ شرح المواہب اللدنیہ علامہ محمد بن عبد الباقی الزرقانی حجۃ الوداع و جزء عمرات النبی صلی اللہ علیہ وسلم الشیخ محمد زکریا کاندھلوی ذیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حج کا بیان مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے: حجۃ الوداع 10ھ میں پیش آیا۔ اس کے تقریباً دو ماہ بعد مدینہ میں آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ کے اس حج کو حجۃ الوداع اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ نے منی میں اور عرف کے خطبہ میں اس وقت کے اہل ایمان کو وداع کہا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ اس سال کے بعد آئندہ اس جگہ تم سے میری ملاقات نہ ہو سکے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حج مختلف پہلوؤں سے اہمیت رکھتا تھا۔ اسی لیے اس کو کئی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ مثلاً حجۃ الوداع، حجۃ السلام، حجۃ البلاغ، حجۃ الکمال، حجۃ التمام۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page