Urdu book · حقیقت حج

رسول اللہ کا حج

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ رمضان 8 ھ میں فتح ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 8 اور 9 ھ میں حج کے لیے تشریف نہیں لے گئے۔ البتہ آپ کی ہدایت کے مطابق 9 ھ میں تین سو مسلمانوں کی ایک جماعت نے مدینہ سے مکہ جا کر حج ادا کیا۔ اس جماعت کے امیر حضرت ابو بکر صدیق تھے۔ اس حج میں عرب کے مشرکین بھی شریک تھے۔ مگر سورہ التوبہ میں نازل شدہ حکم کے مطابق 9 ھ کے حج میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ آئندہ سے کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہ اعلان حضرت علی نے کیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 369)۔ اگلے سال 10 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا۔ اسی کے ساتھ تمام قبائل میں اہتمام کے ساتھ اطلاعات بھیج دی گئیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کے ساتھ شریک ہو سکیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے بعد حج کی عبادت اگرچہ جاری تھی ۔ مگر اس میں بہت سی جاہلی رسمیں شامل ہو گئی تھیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ آپ کو حج کے اعمال کرتے ہوئے دیکھ لیں اور آئندہ اسی کے مطابق حج ادا کرتے رہیں۔ اس قسم کے اعمال ہمیشہ دیکھ کر ہی سمجھ میں آتے ہیں، لفظوں میں بتانے سے سمجھ میں نہیں آتے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ اپنی سواری پر تھے اور رمی جمار کر رہے تھے۔ آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو، حج کے طریقے مجھ سے سیکھ لو۔ شاید اس سال کے بعد میں دوبارہ حج نہ کر سکوں (السنن الکبری للنسائی، حدیث نمبر 4002)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کی خبر اطراف ملک میں پھیلی تو لوگ آنا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ مدینہ میں تقریباً ایک لاکھ آدمیوں کا مجمع اکٹھا ہو گیا۔ آپ 25 ذی قعدہ 10 ھ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ راستہ میں بھی لوگ اس قافلہ میں شریک ہوتے رہے۔ آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page