Urdu book · حقیقت حج

رسول اللہ کا حج

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح مکہ کی طرف جارہے تھے کہ آپ کے چاروں طرف آدمیوں کا ہجوم تھا۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ میری نگاہ جہاں تک جاتی تھی مجھے ہر طرف انسان ہی انسان دکھائی دیتے تھے۔ مکہ پہنچ کر یہ مجمع تقریباً سوا لاکھ ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس اونٹنی پر سوار تھے جس کا نام قصواء تھا۔ یہ ایک غیر معمولی قسم کی تیز رفتار اونٹنی تھی۔ تاہم اس وقت اس کے اوپر جو کجاوہ بندھا ہوا تھا۔ اس کی قیمت چار درہم سے زیادہ نہ تھی۔ گویا ضرورت کی حد تک اعلیٰ معیار اور جہاں ضرورت کی حد ختم ہو جائے وہاں صرف سادگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی سے پہلے ظہر کی چار رکعتیں لوگوں کے ساتھ پڑھیں۔ آپ نے ایک تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ احرام باندھنے کے فرائض و آداب کیا ہیں۔ اس کے بعد آپ مدینہ سے روانہ ہوئے ۔ مدینہ سے پانچ میل کے فاصلہ پر ذوالحلیفہ ایک مقام ہے جو اہل مدینہ کی میقات ہے۔ یہاں پہنچ کر آپ نے رات گزاری ۔ اگلے دن آپ نے غسل کیا۔ ظہر کی نماز دو رکعت ادا کی۔ اور حج و عمرہ (قران ) کا احرام باندھا۔ پھر تلبیہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1549 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1184 ) ۔ یعنی ، حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں ۔ حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں۔ اس طرح آپ مدینہ سے مکہ کی طرف جارہے تھے۔ راستہ میں کوئی ٹیلہ ملتا تو اس پر چڑھ کر آپ بلند آواز سے اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے ) کہتے ۔ گویا کہ یہاں سے آپ سارے عالم کے سامنے اللہ کی بڑائی کا اعلان کر رہے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page