رسول اللہ کا حج
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ 4 ذی الحجہ کو مکہ پہنچے۔ مدینہ سے مکہ کا سفر نو دن میں طے ہوا۔ یہ سہ پہر کا وقت تھا۔ آپ چلتے ہوئے حرم میں داخل ہوئے ۔ بیت اللہ پر نظر پڑی تو آپ کی زبان مبارک سے نکلا: اَللّٰهُمَّ زِدْ بَيْتَكَ هٰذَا تَشْرِيفاً، وَتَعْظِيْماً، وَتَكْرِيْماً، وَبِرًّا، وَمَهَابَةً (المجم الاوسط، حدیث نمبر 6132)۔ یعنی، اے اللہ تو اپنے اس گھر کے شرف اور عظمت اور بزرگی اور ہیبت میں اضافہ فرمایا۔ آپ اپنے ہاتھ کو اٹھا کر تکبیر کہتے اور فرماتے: اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، فَحَيِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ (اے اللہ تو سلامتی ہے، تجھی سے سلامتی ہے، اے ہمارے رب ہم کو سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ)۔ حرم میں داخل ہو کر آپ نے تحیۃ المسجد کا دوگانہ نہیں پڑھا بلکہ طواف قدوم شروع کر دیا۔ آپ حجر اسود کے پاس آئے اور بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ کر اس کا استلام کیا۔ پھر دائیں طرف سے چل کر سات بار اس کا طواف اس طرح کیا کہ کعبہ آپ کے بائیں طرف تھا۔ طواف کے پہلے تین شوط (پھیرے) میں آپ تیز تیز چلے جس کو رمل کہا جاتا ہے۔ باقی چار پھیروں میں آپ معمول کی چال چلے۔ آپ کے بائیں شانہ پر احرام کی چادر پڑی ہوئی تھی اور دایاں شانہ کھلا ہوا تھا۔ اس طریقہ کو اضطباع کہا جاتا ہے۔ طواف کے دوران جب آپ حجر اسود کے سامنے سے گزرتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے اپنی چھڑی سے استلام کرتے۔ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان یہ دعا ماثور ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (مسند احمد، حدیث نمبر 15399)۔ یعنی، اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اسی طرح طواف میں آپ سے بعض اور دعائیں بھی منقول ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader